امریکا ‘چین کشیدگی : دنیا تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر

روزنامہ خبریں  |  May 31, 2020

لندن(ویب ڈیسک ) لداخ میں حالیہ بھارت چین سرحدی کشیدگی کے بعد یورپی میڈیا میں مکمل جنگ کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس پر چین کے خلاف مہم اور تجارتی تنازع کے باوجود دونوں ملکوں میں ثالثی کی پیشکش بھی کردی ہے، جبکہ بھارت اور چین کی طرف سے بارڈر پر فوجوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے.بھارتی دعوے کے مطابق چین لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے اندر تک آچکا ہے سیٹلائٹ سے لی گئی تصویروں میں ایل اے سی کے اندر مبیّنہ بھارتی حدود میں چین کے فوجی 60 خیمے لگا چکے ہیں جبکہ چین کی اپنی حدود میں 100 خیمے نصب کیے جا چکے ہیں بھارتی دعوے کے مطابق چین بھارتی مشینری کی مدد سے بنکرز بھی بنا رہا ہے. اس تنازع کو سمجھنے کے لیے بھارت چین سرحدی تنازع کو 1950 کے عشرے سے دیکھنا پڑے گا امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے اگست 1963 میں تیار کیے گئے ورکنگ پیپر میں اس تنازع کو امریکی نظر سے دیکھا گیا ہے لیکن اس سے تنازع کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ہے.اس ورکنگ پیپر کو پہلے ٹاپ سیکریٹ قرار دیا گیا تھا تاہم اب وہ ڈی کلاسیفائیڈ کردیا گیا ہے یہ ورکنگ پیپر 1959 کے اوائل سے 1963 کے اواخر تک کے حالات پر مبنی ہے 24 اکتوبر 1959 میں جاری ہونے والا سی آئی اے کا سینٹرل انٹیلی جنس بلیٹن بھی چین بھارت سرحدی جھڑپ پر روشنی ڈالتا ہے. سی آئی اے کے سینٹرل انٹیلی جنس بلیٹن کے مطابق نئی دہلی نے 21 اکتوبر کی سرحدی جھڑپ پر سخت احتجاج کیا، مشرقی کشمیر کے علاقے لداخ میں ہونے والی اس جھڑپ میں 17 فوجی مارے گئے تھے نئیدہلی کے ترجمان نے چین کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کیا کہ بھارتی فوجیوں نے چین کے علاقے میں دراندازی کی تھی اور چین کے گشت کرنے والے فوجی قافلے پر فائرنگ کی تھی.امریکی سی آئی اے کی نظر میں یہ واقعہ منصوبے کے تحت پیش نہیں آیا تھا کیونکہ دونوں حکومتیں مذاکرات کی تیاری کر رہی تھیں چین نے اس واقع پر موقف اپنایا تھا کہ اس کے فوجی اپنے دفاع میں فائرنگ پر مجبور ہوئے تھے چین نے بھارت پر زور دیا تھا کہ چین کی سرحدوں کی خلاف ورزی کے واقعات کو مستقبل میں روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں. انٹیلی جنس بلیٹن میں کہا گیا کہ نہرو نے 8 اکتوبر کو کہا کہ ان کی حکومت اس موقع پر کوئی فوجی آپریشن نہیں کرے گی ماﺅزے تنگ نے بھی حال ہی میں بھارت کے کمیونسٹوں کو یقین دلایا کہ چین بھارت کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتا سی آئی اے نے اپنے تجزیے میں کہا کہ لداخ کا واقع اور دونوں طرف سے احتجاجی بیانات بھارتی عوام اور حکام کے موقف کو سخت کرسکتے ہیں جس سے اس سازگار ماحول میں رکاوٹیں کھڑی ہوسکتی ہیں جس کے لیے ماﺅزے تنگ مذاکرات سے پہلے مطالبہ کرتے ہیںسی آئی اے کے ورکنگ پیپر کے مطابق 10 نومبر کو نہرو نے مذاکرات کے لیے پیشگی شرط رکھی کہ دونوں طرف کی فوجیں ایل اے سی پر واپس اپنی روایتی پوزیشنوں پر چلی جائیں.17 دسمبر کو چینی وزیراعظم چو این لائی نے جوابی خط لکھا کہ بھارتی شرائط یا تجاویز ایک تھیوری کی حد تک ہیں کیونکہ بھارت کا کوئی فوجی وہاں موجود ہی نہیں جہاں سے انخلا کی بھارتی تجویز دی جا رہی ہے چو این لائی نے علاقے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ایک وسیع علاقے سنکیانگ اور تبت کو ملانے کے لیے اہم ہے بھارتی حکومت نے علاقے میں ستمبر 1958تک چین کی طرف سے کسی سڑک کی تعمیر سے لاعلمی کا اظہار کیا اور دنیا بھر میں اپنے سفیروں کو یہ موقف اپنانے کی ہدایت کی کہ کسی پڑوسی ملک کی طرف سے دخل اندازی اس بنیاد پر اس علاقے پر قانونی حق کا جواز نہیں بخشتی کہ وہ ملک اپنے علاقے میں دخل اندازی سے لاعلم تھا یا اس نے مزاحمت نہیں کی.چو این لائی نے اپنے خط میں لکھا کہ سرحدی جھڑپ کے بعد چین نے علاقے میں فوجی گشت روک دیا ہے، چو این لائی نے نہرو سے کہا کہ مذاکرات کے بنیادی اصول طے کرنے کے لیے بالمشافہ ملاقات کی جائے چو این لائی نے اشارہ دیا کہ وہ میک موہن لائن کے جنوبی علاقے سے اقصائے چین کے بدلے دستبردار ہونے کو تیار ہے نہرو جنوری 1960 تک ملاقات سے گریزاں رہے اور پھر اپنے سفیر اور چند وزرا کے مشورے پر ملاقات کے لیے راضی ہوگئے اس عرصے میں روس کے صدر خروش چیف نے چین بھارت تنازع پر کئی بیانات دیے اور کہا کہ چین کی فوجی کارروائیاں ماسکو اور دہلی کے تعلقات کو خطرے میں ڈال رہی ہیں.نومبر میں خروش چیف نے اس تنازع کو افسوسناک اور احمقانہ کہانی قرار دیا خروش چیف کے بیانات نے بھارتی سفارتکاروں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کردیا کہ سوویت یونین نے اس تنازع میں براہِ راست مداخلت کی ہے لیکن جب بیجنگ پر دباﺅ ڈالنے کے ثبوت مانگے گئے تو سوویت یونین نے موقف اپنایا کہ سوویت یونین نے بیجنگ پر جلد از جلد مذاکرات پر زور دیا تھا سوویت یونین کا حقیقت میں چین پر کوئی اثر و رسوخ نہیں تھا بلکہ چینی حکام خروش چیف کے بیانات پر ناراض تھے بھارتی سیکرٹری خارجہ نے ایک امریکی عہدیدار کو بتایا کہ خروش چیف اس معاملے میں غیر جانبدار رہے اور ان کے خیال میں سوویت یونین کے دونوں دوست ملک تنازع کو باہم حل کرلیں گے.نومبر 1960 میں چینی حکام نے برما کو سرحدی تنازعات کے حل کے لیے بیجنگ آنے پر راضی کیا تاکہ سرحدی تنازعات دوستانہ طریقے سے حل کرنے کی مثال قائم کی جاسکے چین کا خیال تھا کہ برمی وزیرِاعظم کے ساتھ سرحدی تنازع جلد از جلد حل کرکے وہ نہرو کو مذاکرات پر آمادہ کرسکتے ہیں برما کے وزیرِاعظم نے اندازہ لگایا کہ چین ان کے ساتھ سرحدی تنازع خروش چیف کے دورہ نئی دہلی سے پہلے حل کرنا چاہتا ہے تاکہ نئی دہلی کے اس موقف کو جھٹلا سکے کہ چین تنازعات کو حل کرنے سے انکاری ہے.پارلیمنٹ اور میڈیا کے دباﺅ میں نہرو نے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی اور 5 فروری 1960 کے خط میں چو این لائی کو مذاکرا ت نہیں بلکہ ملاقات کے لیے نئی دہلی آنے کی دعوت دی۔

فروری اور مارچ میں اشارے ملنے لگے کہ نہرو اقصائے چین پر بھارت کا برائے نام اختیار برقرار رکھتے ہوئے سنکیانگ تبت روڈ چین کے استعمال میں دینے کو قبول کرنے کو تیار ہیں . چینی حکام بھارت کے موقف میں اس نرمی کو بھانپ گئے اور بے معنی ملاقات کی بجائے بامقصد مذاکرات کی تیاری میں لگ گئے چین کے حکام نے اپنی آمادگی کو معتبر بنانے کے لیے نہرو کی طرف سے دو بار دورے کی دعوت مسترد کرنے کے باوجود چو این لائی کے دورہ نئی دہلی پر آمادگی دکھائی اور برما کے ساتھ سرحدی معاہدے کے صرف 2 ماہ بعد ہی نیپال کے ساتھ مارچ میں سرحدی معاہدہ کرلیا.

چو این لائی کی طرف سے اعلیٰ سطح کے وفد کے ساتھ 6 روزہ دورہ نئی دہلی کی تجویز پر بھارتی حکام ششدر رہ گئے نہرو کے مشیروں نے یہ بات نوٹ کی کہ نئی دہلی تعلقات میں بہتری کے لیے نہرو
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More