مائیک پومپیو کا عبدالغنی برادر سے ٹیلی فون پر رابطہ

سماء نیوز  |  Jul 01, 2020

افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا عبدالغنی برادر نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں افغان امن عمل سمیت قیدیوں کے تبادلے پر مشاورت کی گئی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ترجمان طالبان سہیل شاہین نے بتایا کہ طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا عبدالغنی برادر نے امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں افغان امن عمل سمیت قیدیوں کے تبادلے پر مشاورت کی گئی۔ ملا عبدالغنی برادر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مائیک پومپیو نے تسلیم کیا کہ معاہدے کے تحت طالبان نے بڑے شہروں اور فوجی تنصیبات پر حملے نہیں کیے لیکن اُنہیں مجموعی طور پر تشدد کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

سہیل شاہین کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کا مائیک پومپیو سے کہنا تھا کہ طالبان افغان سرزمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے معاہدے پر قائم ہیں۔ طالبان ترجمان نے مزید بتایا کہ پومپیو اور ملا غنی برادر نے بین الافغان مذاکرات اور پانچ ہزار طالبان جنگجوؤں کی رہائی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ سہیل شاہین کے مطابق طالبان بین الافغان مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے معاملہ التوا کا شکار ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان، مورگن آرٹیگس نے کہا ہے کہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے پیر کو وزیر خارجہ پومپیو نے طالبان کے چیف مذاکرات کار ملا برادر کے ساتھ امریکا طالبان سمجھوتے پر عمل درآمد کے معاملے پر گفتگو کی۔

اپنی ٹوئیٹ میں محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ طالبان سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہیں گے، جس میں امریکیوں پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی شامل ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ افغان حکومت کا کہنا ہے کہ اب تک 4000 کے لگ بھگ طالبان قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے تاکہ بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔

خیال رہے کہ رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد افغانستان میں 19 سال سے جاری جنگ ختم ہونے کے امکانات روشن ہو گئے تھے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More