امریکی خواب کا حصول کتنا قریب کتنا دور

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 04, 2020

واشنگٹن — 

امریکی خواب کو دنیا بھر میں ترقی کے یکساں مواقع کا ایک مثالی تصور سمجھا جاتا ہے اور اسے خوب سے خوب تر کی تلاش کی ایک طاقتور علامت کہا جاتا ہے۔

ہرسال امریکہ کا یوم ازادی ایک سنگ میل کی حیثیت سے اس خواب کی تجدید کے ساتھ ساتھ اس کے حصول کو جانچنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔

امریکی خواب کی تعبیر پانے والی شخصیات اور ماہرین کے مطابق اس مقصد کے حصول کا اہم ترین ستون ملک میں ترقی کے یکساں مواقعوں کی دستیابی ہے تا کہ لوگ اپنی محنت اور صلاحیتوں کے ذریعہ ترقی کر سکیں۔

لیکن اقتصادی پالیسی کے ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکی شہریوں کی آمدنی میں فرق بڑھتا جا رہا ہے اور امیرترین لوگ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنا رہے ہیں۔ دوسری طرف کارکنان کی آمدنی میں محض ایک فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اور اب کرونا وائرس کے بحران کے باعث امریکی کارکنان کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہو گی ہے اور صنعتی اور دوسرے کئی شعبوں میں بہت حد تک کام رک گیا ہے۔ اور تقریبا 40 فصد عوام چار سو ڈالر کی رقم بھی ایمرجینسی کی صورت میں خرچ کرنے سے قاصر ہیں۔

اس کے علاوہ افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد معاشرہ میں عدم مساوات کا احساس بڑھ گیا ہے۔

ان دگرگوں حالات میں امریکی خواب کیسا دکھائی دیتا ہے؟ اور اس کے حصول کے لے کیا اقدامات کرنا ضروری ہوں گے؟ اور ایسا کب ممکن ہو گا؟

وائس آف امریکہ نے یہ سوالات جنوبی ایشیا سے امریکی خواب کو پانے والی شخصیات کے سامنے رکھے۔

فرینک اسلام بھارتی امریکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک ماہر ہیں اور ان کا شمار اس شعبہ میں کامیاب ترین کاروباری شخصیات میں ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکہ کو اس وقت غیر معمولی حالات کا سامنا ہے۔ اور اس سال کرونا کی وبا نے امریکہ میں آمدنی کی خلیج کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

امریکہ شروع سے ہی ایک منفرد حیثیت کی سر زمین رہی ہے جہاں ترقی کرنے اور مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے بہت سے مواقع ہیں۔ لیکن ہمیں یوم آزادی کے موقع پر سوچنا ہو گا کہ ہم قومی زندگی کے اہم ترین پہلووں کے حوالوں سے کہاں کھڑے ہیں۔

فرینک اسلام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم افراد کو معاشرہ میں موجود خلیجوں کو عبور کرنے اور برابری کی سظح پر آنےا ور امریکی خواب کے حصول میں اہم کردار کرتی ہے۔

وہ کہتے ہیں: اس وقت امریکہ کو کرونا وائرس کا چیلنج درپیش ہے۔ ہماری سیاست یک طرفہ ہے اور ہم باہمی ملاپ کے نقطے سے بہت دور ہیں۔ ایک ایسی صورت حال ہے جہاں چہرے کا ماسک پیہننا بھی ایک سیاسی بیان کی حیثیت رکھتا ہے۔

اور ہمیں آمدنی میں تفاوت اور نسل پرستی کا بھی سامنا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ کوویڈ ناینٹین سے مقابلے میں طبی عملے نے خدمت کی مثال قائم کی اور جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں تمام امریکی برادریوں نے شرکت کر کے یکجہتی کا پیغام دیا۔

ان حالات میں ہمیں بہت سا کا م کرنا ہے اور اب ہمیں یوم آزادی کی بجائے ایک ایسا دن منانا چاہیے جو باہمی انحصار اور اکھٹے رہنے کے جذبے کو منائے۔

پروفیسر ڈاکٹر اکبر احمد واشنگٹن کی امیریکن یونیورسٹی میں اسلامیات کے ابن خلدون شعبہ کے سربراہ ہیں۔ تعلیم و تدریس کی دنیا میں کامیابی اور مہارت حاصل کر کے امریکی خواب کے حاصل کرنے والے سکالرز میں شمار کیے جاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ امریکی خواب ایک بہت ہی پرکشش تصور ہے جس نے نہ صرف امریکیوں کو بہتر زندگی کے حصول کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ دنیا بھر سے قابل ترین اور محنتی لوگو ں کو امریکی سرزمیں کی طرف کھینچا۔

لیکن گزشتہ کچھ سالو ں سے امریکی خواب کی تعبیر کی راہ میں آمدنی میں فرق اور آبادی کے کچھ حصوں کو مالی وسائل جیسی مشکالات آڑے آ رہی ہیں۔ اور حال ہی میں امتیازی سلوک کے واقعات نے اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ اور پھر کرونا وائرس نے بھی امریکی معاشرہ میں موجود تقسیم جیسے مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔

انہوں نے کہا: نئی نسل کے لیے امریکی خواب کو حقیقت میں بدلنا تب ہی ممکن ہو گا جب امریکی قیادت اور معاشرہ ان تمام مسائل کا ایک دور رس سوچ کے ساتھ حل نکالیں۔

ڈاکٹر اکبر احمد نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی امریکیوں اور پاکستانیوں کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ امریکی خواب تب ہی مضبوط ہوا جب امریکہ کے بانی اور امریکی آئین کے خالق سیاستدان اور بعد ازاں صدر تھامس جیفرسن نے مذہبی آزادی اور تمام انسانوں کے مساوی ہونے کی بات کی اور قوانین بنائے۔

پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی تمام شہریوں کے بلاتمیز و تفریق برابر ہونے پر زور دیا۔ لیکن ہم اس راستے پر گامزن نہ ہو سکے۔

ایک امریکی پاکسانی ہونے کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور ترقی کے مساوی مواقع دینے سے ہی امریکی خواب میں ایک نئی روح آئے گی اور پاکستان بھی قائداعظم کے بتائے انہیں اصولوں کو اپنانے سے اگے بڑھنے کا اغاز کر سکتا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More