کرونا بحران میں مضافات کو ترجیح دینے کا رجحٓان، مستقل ہے یا عارضی

وائس آف امریکہ اردو  |  Jul 07, 2020

واشنگٹن — 

شہروں میں رہا جائے یا مضافات میں۔ جدید دور میں اس بات کا فیصلہ کچھ لوگوں کے لیے ایک مستقل سوال بنا رہتا ہے۔ کیونکہ دونوں جگہوں میں سکونت اختیار کرنے کے فوائد اور نقصانات میں موازنہ اکثر مخمصے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

حارہس پول کے ایک حالیہ سروے کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران نیویارک جیسے پر ہجوم شہروں میں رہنے والے تقریباً 33 فی صد امریکی شہریوں میں مضافات یا دور علاقوں کی طرف منتقل ہونے کو ترجیح دینے کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

نیویارک جیسے شہرکے لیے یہ رجحان کچھ عجیب سا دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس شہر کی رونقیں، گہما گہمی، روزگار اور کاروبار کے مواقع ہر طبقے کے لوگوں کے لیے ایک طلسماتی کشش رکھتے ہیں۔

اپریل اور مئی کے مہینوں میں یہ شہر کرونا وائرس کی لپیٹ میں رہنے کے بعد دوبارہ کھولا جا رہا ہے اور شہر میں اقتصادی سرگرمیاں بتدریج واپس لوٹ رہی ہیں۔

ریئل اسٹیٹ کے ماہرین کے مطابق یہ ایک عارضی رجحان دکھائی دیتا ہے کیونکہ کاروباری مراکز سے دور اقتصادی ترقی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

گولڈن کی نامی کمپنی کے بانی رانا سعادت کہتے ہیں کہ کسی بحران میں یہ ایک فطری عمل ہے کہ لوگ محفوظ مقامات کی طرف رخ کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میرے تجربے کے مطابق نیویارک اور واشنگٹن امریکہ کے بڑے مراکز ہونے کی حیثیت سے کاروبار اور کارکنان دونوں کے لئے بہت پر کشش ہیں۔ لہذا جہاں شہروں سے کچھ لوگ منتقل ہوتے ہیں وہاں بہت سے لوگ ان بڑے اقتصادی مراکز میں اتے ہیں۔

ان کے بقول جو لوگ شہروں سے دور جانے کو ترجیح دیتے ہیں وہ ریٹائرڈ زندگی کو ایک مناسب رفتار سے گزارنا چاہتے ہیں یا وہ لوگ جو امرا ہیں اور اپنی زندگی میں خلل پسند نہیں کرتے۔ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ شہروں ہی میں رہنا پسند کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق اب تک 16 ہزار نیویارکرز قریب کی ریاست کنیٹی کنیٹی کٹ کے مضافات میں منتقل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے امرا نے نیویارک شہر سے فلوریڈا کا رخ کیا ہے۔ جب کہ ایک انجینیرنگ اور پلاننگ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں نیویارک چھوڑنے والے افراد کی تعداد لاکھوں تک جا سکتی ہے۔

ریئل اسٹیٹ کمپنی ریڈفن نے نئے رجحانات کے تناظر میں کہا ہے کہ اس کی ویب سائٹ پر کم آباد علاقوں میں گھروں کی تلاش کرنے والے شہریوں میں 25 فی صد سے زائد کا تعلق واشنگٹن، سیاٹل اور سان فرانسسکو سے ہے۔

سان فرانسسکو میں گھروں کی قیمتوں میں 50 فی صد کمی ٓواقع ہوئی ہے جب کہ مضافات میں عمارتوں اور مکانات کی قیمتوں میں دس فی صد اضافہ ہوا ہے۔

دوسرئ طرف مانٹانا، کولوراڈو، اوریگان اور مین ریاستوں میں جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ دہکھنے میں آیا ہے۔

رانا سعادت، جن کی کمپنی دو دہائیوں سے اس خطے میں کاروبار کر رہی ہے، کہتے ہیں کہ واشنگٹن اور اس کے اردگرد میری لینڈ اور ورجینیا میں ریئل اسٹیٹ کی قیمتیں بدستور برقرار ہیں اور ان کی خرید و فروخت معمول کے رجحانات سے چل رہی ہے۔

کرونا وائرس کے وبا پھوٹنے سے پہلے لوگوں کی بڑے شہروں سے منتقلی کی وجوہات میں جرائم میں اضافہ، مہنگائی اور شہروں کی بہتر پلاننگ نہ ہونا شامل تھے۔

لیکن اس بحران کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال نے لوگوں کے کام اور کاروبار کرنے کے انداز کو تبدیل کیا ہے۔ کیونکہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں کارکنوں کی بڑی تعداد نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا۔ ان سہولیات کے مؤثر استعمال کو دیکھتے ہوئے کئئ بڑی کمپنیوں نے اپنے زیادہ تر عملے کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی۔

ماہرین کے مطابق اب ٹیکنالوجی سے منسلک لوگوں کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ پر ہجوم شہروں سے دور ٹریفک میں اپنا وقت ضایع کئے بغیر اپنا کام گھر سے سرانجام دیں اور مضافات میں بہتر جگہوں پر رہ سکیں۔

لیکن زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کرنے والے شہری بڑے شہروں یا ان کے قریب ترین مقامات پر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

نیویارک میں ایک طویل عرصہ سے مقیم صحافی فائق صدیقی کہتے ہیں کہ کرونا وائرس بحران سے پیدا ہونے والے غیر معمولی حالات کسی ایک شہر یا جگہ تک محدود نہیں۔ اور نیویارک ایک ایسا شہر ہے جو بارونق زندگی کی علامت ہے اور جو ایک بار اس شہر کا ہو گیا، وہ عمر بھر کے لیے اسی کا ہو جاتا ہے۔

بقول ان کے اس بحران کے دوران ٹائم سکوائر کی خاموشی یقیناً ایک لمحے کے لیے دلوں کو دھڑکنے سے روک دیتی ہے، لیکن یہ شہر امریکہ اور دنیا کے لیے ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے اور یہاں ترقی اور کاروبار کے موقع اسے ایک گہوارہ بناتے ہیں۔ اگر کچھ لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ شہر سے دور جایا جائے تو یہ بالکل ایک عارضی سوچ ہے۔ حالات کی تبدیلی کے ساتھ نیویارک اپنی رعنائیاں پھر سے حاصل کر لے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More