نظام ِشمسی میں چُھپا نیا سمندر دریافت

بول نیوز  |  Aug 14, 2020

امریکی خلائی ادارے ناسا نے ہمارے نظام شمسی میں چھپے ایک سمندر کو دریافت کرلیا ہے۔

ناسا کے خلائی جانچ پڑتال کے ایک ریٹائر مشن ڈان نے ایک بونے سیارے سیرس میں چھپے اس سمندر کو دریافت کیا۔

یہ بونا سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان واقع سیارچوں کی پٹی میں واقع ہے اور خلائی مشن ڈان نے 2018 میں ایندھن ختم ہونے 3 سال قبل وہاں جانچ پڑتال کی تھی۔

ڈان کی مدد سے محققین کو یہ جاننے میں مدد ملی کہ یہ روشن مقامات سوڈیم کاربونیٹ نامی مرکب سے ڈھکے ہوئے ہیں جو کہ سوڈیم، کاربن اور آکسیجن سے بنتا ہے۔

یہ نمکین سطح ممکنہ طور پر سیرس کی سطح سے سیال کے بخارات کے اخراج کا نتیجہ ہے۔

مگر یہ سیال کہاں سے آیا یہ رواں ہفتے تک ایک اسرار تھا اور اب تحقیقی مقالوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس بونے سیارے کی سطح پر کھارا پانی کا ذخیرہ سطح کے نیچے چھپا ہے جو کہ 25 میل گہرا اور سیکڑوں میل چوڑا ہے۔

ڈان مشن کی مرکزی تفتیش کار کیرول ریمنڈ نے بتایا ‘اس دریافت سے سیرس کا درجہ سمندری دنیا کا ہوگیا ہے’۔

سائنسدانوں کے مطابق سیرس میں ملنے والا میٹریل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ارگرد موجود سیارچوں کے اثر کے نتیجے میں یہ بونا سیارہ اس حد تک گرم ہوگیا تھا جو سیال پانی کو سطح کے نیچے برقرار رکھنے کے لیے کافی ہے، مگر پھر درجہ حرارت کم ہونے سے وہ منجمد ہوگیا۔

ناسا کے منتظم جم برائیڈنسٹین نے ٹوئٹرمیں کہا کہ دیگر دنیاؤں میں زندگی کے امکانات بڑھ رہے ہیں، سیرس ہمارے نظام شمسی کا تازہ ثبوت ہے جہاں ماضی میں زندگی کے قابل ماحول موجود تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More