جب لوگ مجھے خوبصورت کہتے تھے تو۔۔۔ عظمیٰ بخاری کو انکے سابق شوہرمیں  طلاق کیوں ہوئی تھی؟

روزنامہ اوصاف  |  Sep 22, 2020

لاہور(ویب ڈیسک )لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے سوشل میڈیا پر دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ کسی طریقے سے اپنی شادی شدہ زندگی کو بچا لیں مگر ایسا نہیں ہو سکا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ان کو آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ایسا کیا ہوا کہ حالات اس نہج تک پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اپنے سابق شوہر سے متعلق بتایا کہ وہ ان سے کہتے تھے کہ میرے والد نے ان کو رخصتی کے وقت یہ کیوں کہا کہ ان کی بیٹی ہیرا ہے اور اس کا دھیان رکھا جائے۔انہوں نے بتایا کہ میرے شوہر کو اس بات پر بھی اعتراض ہوا کرتا تھا کہ لوگ انہیں یہ کیوں کہتے ہیں کہ ان کی بیوی کم عمر اور خوبصورت ہے اور ان کے شوہر ان کو برقعہ پہنانے کے لیے بھی اصرار کیا کرتے تھے اور شوہر کی فرمائش پر وہ برقعہ بھی پہنا کرتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ میرے سابق شوہر ہمیشہ یہ چاہتے تھے کہ میرے والد چھوٹی چھوٹی بات پر ان سے معافی مانگیں اور یہ کہ ان کے والد نے 2 بار ان کے سابق شوہر سے معافی بھی مانگی۔ عظمیٰ نے مزید بتایا کہ جب ان کی بیٹی کو ڈایئریا ہوا تو ان کے شوہر نے یہ کہہ کر دوائی لینے سے انکار کر دیا کہ دانت نکل رہے ہیں اس لیے دوائی کی ضرورت نہیں۔عظمیٰ کے مطابق انہوں نے اپنے سابق شوہر سے کہا کہ مجھے میرے گھر بھیج دیں کیونکہ وہ اپنی بیٹی کے لیے دوائی لینا چاہتی تھیں اور جب پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرکے وہ اپنے گھر پہنچیں تو ان کے والد نے گھر کے دروازے پر روک کر کہا کہ پہلے اپنے سامان کی تلاشی دو کیونکہ میرے شوہر نے انہیں فون کر کہ کہہ دیا تھا کہ میں وہاں سے نکلتے ہوئے ان کے پیسے چرا کر لے آئی ہوں۔عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ مجھے اپنے گھر آنے سے 3ماہ بعد پتہ چلا کہ میں دوبارہ ماں بننے والی ہوں اور جب بیٹا پیدا ہوا تو ان کے سابق شوہر نے آج تک اپنے بیٹے کو دیکھا تک نہیں، جس پر میزبان عفت عمر نے کہا کہ وہ اس کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنی پہلی شادی سے متعلق یہ بھی کہا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں مگر اس سیاست نے انہیں سمیع اللہ خان کی شکل میں دوبارہ زندگی کی طرف لوٹنے پر مجبور کر دیا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی زندگی کی مصروفیت دیکھ کر ان کے بچے سیاست میں نہیں آنا چاہتے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More