پی ایس ایل6، پی سی بی کی جانب سے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑائے جانے کا انکشاف

روزنامہ اوصاف  |  Mar 08, 2021

لاہور (ویب ڈیسک )؛ پی ایس ایل 6 کے دوران کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دی گئیں جب کہ سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ویب سائٹ ’’کرک انفو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق 27 فروری کو علامات ظاہر ہونے کے باوجود اسلام آباد یونائیٹڈ کے آسٹریلین لیگ سپنر فواد احمد کی شکایت کا فوری نوٹس نہ لیا گیا، لیگ سپنر نے پی سی بی کے ڈاکٹر کو پیٹ میں درد کا بتایا تو انہیں جواب دیا گیا کہ یہ کورونا کی علامت نہیں ہے، کسی اور غیر متعلقہ طبی مسئلہ میں الجھے ڈاکٹر نے اگلی صبح تک فواد احمد کا معائنہ ہی نہ کیا۔ فرنچائز ذرائع کا کہنا تھا کہ مسلسل درخواست کیے جانے کے باوجود 24 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزرنے کے بعد رات 9 بجے فواد احمد کورونا ٹیسٹ ہوا، اگرچہ فواد احمد کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا لیکن اس بارے میں کوئی رپورٹس نہیں کہ لیگ سپنر کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والوں کو بھی باقی کھلاڑیوں سے الگ ۔کرنا یا کورونا ٹیسٹ لینا ضروری سمجھا گیا تھا یا نہیں، یکم مارچ کو پی سی بی کی پریس ریلیز میں صرف یہی بتایا گیا کہ ایک کھلاڑی کا ٹیسٹ پازیٹیو آ گیا اور ان کو قرنطینہ میں بھیج دیا گیا ہے، ان کے ساتھ رابطے میں رہنے والوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی دن اسلام آباد یونائیٹڈ نے فواد احمد کے نام کا اعلان کیا جس کے بعد میچ صرف ایک دن کیلئے ملتوی کیا گیا، جس روز فواد کی شکایت کو ڈاکٹر نے نظر انداز کیا اسی شام ہوٹل میں ملتان سلطانز کے بائولنگ کوچ اظہر محمود کی سالگرہ پارٹی ہوئی جس میں فواد احمد کے ساتھ میچ کھیلنے اور رابطے میں رہنے والے فاسٹ بائولر حسن علی نے بھی شرکت کی، اس تقریب میں دیگر فرنچائزز کے کھلاڑی اور معاون سٹاف ارکان بھی موجود تھے جن میں سے کئی ایک کو اگلے روز میچ بھی کھیلنا تھا۔ فواد احمد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود حسن علی اور سالگرہ پارٹی میں شرکش کرنیوالے تمام افراد کو آئسولیٹ نہیں کیا گیا، کورونا کی علامات ظاہر ہونے میں وقت لگتا ہےاور فواد احمد سے رابطے میں رہنے والے تمام مشکوک افراد کو قرنطینہ کا دورانیہ گزارتے ہوئے کم ازکم 2 ٹیسٹ کلیئر کرنا چاہیے تھے لیکن اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایک دن کے وقفے کے بعد ملتوی ہونیوالا میچ کھیلا۔ پی سی بی کی جانب سے 2 کیسز کی تصدیق کی گئی لیکن بعد میں ذرائع سے ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئیں کہ حسن علی بھی کورونا وائرس کا شکار ہیں جس کے بعد سالگرہ پارٹی میں شریک تمام افراد ہی مشکوک ہوگئے، پہلا کیس سامنے آنے کی وجہ جو بھی ہو لیکن اس کے بعد پی سی بی میڈیکل پینل کی جانب سے حفاظتی تدابیر اور ٹریسنگ کا عمل انتہائی کمزور رہا، اس حوالے سے فرنچائز کے ساتھ پی سی بی کے رابطے کا فقدان بھی نظر آیا۔ فواد احمد میں علامات سامنے آنے پر ہی مقابلے چند روز کیلئے معطل کیے جاسکتے تھے، افغان سپنر اور رابطے میں آنے والے تمام افراد کے ٹیسٹ کروانے کے ساتھ قرنطینہ کی مدت پوری کرواکر دوسرے ٹیسٹ کیے جاتے تو کیسز میں اتنی تیزی سے اضافہ نہ دیکھنے کو آتا، میچز میں چند روز کا تعطل ضرور ہوتا لیکن ایونٹ ملتوی ہونے سے بچ جاتا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد احمد کا ٹیسٹ مثبت آنے پر چند غیر ملکی کرکٹرز نے بھی پی سی بی کو مشورہ دیا تھا کہ لیگ کے میچز روک کر ضروری قرنطینہ اور ٹیسٹنگ کے مراحل مکمل کیے جائیں لیکن پی سی بی حکام نے ان کی اس تجویز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹیسٹ کرلیا، تمام کرکٹرز کلیئر ہوگئے، میچز ہونگے لیکن مزید 3 مقابلوں کے دوران ہی صورتحال سنگین ہوگئی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More