پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، ڈاکٹر عارف علوی

بول نیوز  |  Jun 25, 2021

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کورس کےغیرملکی شرکاء سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارت میں بلیک مارکیٹ میں یورینیم کی غیرقانونی فروخت کا سنجیدگی سے نوٹس لے لیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ تابکار مادہ غلط ہاتھوں میں انسانی جانوں اور اقوام کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے، بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے اتنا اہم واقعہ نظراندازکرنا قابل افسوس ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کو افغانستان کے خلاف اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کو شکست دی ہے۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 70،000 جانیں اور 150 بلین ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ کے لئے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے، ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔

صدر مملکت کا کہنا یہ بھی ہے کہ پاکستان افغانستان میں طویل تنازع سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، افغانستان میں جنگ نے پاکستان کی معیشت اور سیکورٹی کو بری طرح متاثر کیا، پاکستان شروع سے افغان مسئلے کے مزاکرات کے ذریعے حل کا حامی رہا ہے، جنگ تنازعات کا حل نہیں ہے کیونکہ اس سے انسانی اذیت اور تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کورونا میں مکمل لاک ڈاؤن نہ کرکے ہمدردانہ اور اچھا فیصلہ کیا، احساس پروگرام کے تحت 1.5 کروڑسے زائد خاندانوں کو غربت اور افلاس سے بچانے کے لئے ہنگامی طور پر نقد امداد فراہم کی، پاکستان درست سمت میں گامزن، علاقائی تجارت اور معاشی انضمام کے فروغ کے لئے کام کررہا ہے، پاکستان اپنی خصوصی جیو اقتصادی پوزیشن کو بروئے کار لاکر خطے کا جیو اقتصادی مرکز بننے جارہا ہے۔

--> Adsense 300×250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More