روس یوکرین جنگ: ولادیمیر پوتن کی یوکرین کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی فریب نہیں: یورپی پونین

بی بی سی اردو  |  Sep 24, 2022

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو ولادیمیر پوتن کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے جو انھوں نے کہا کہ وہ یوکرین کے تنازع میں جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

جوزپ بوریل نے بی بی سی کے لائز ڈوسیٹ کو بتایا کہ جنگ ایک ’خطرناک لمحے‘ تک پہنچ گئی ہے۔

ان کے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب روس نے جزوی طور پر متحرک ہونا شروع کر دیا ہے اور یوکرین کے چار علاقوں کے الحاق کی طرف بڑھ رہا ہے۔

صدر پوتن کو میدان جنگ میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، ان کی افواج کو یوکرین کے جوابی حملے میں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر یہ ایک خطرناک لمحہ ہے کیونکہ روسی فوج کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا ہے، اور پوتن کا ردعمل۔۔۔ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی۔۔۔یہ بہت بُرا ہے۔‘

یوکرین پر روس کے حملے کے سات ماہ بعد تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ صدر پوتن کی افواج بیک فٹ پر ہیں لیکن انھوں نے کہا کہ ایک ’سفارتی‘ حل تک پہنچنا چاہیے، جو ’یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ضامن ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ دوسری صورت میں، ہم جنگ ختم کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے پاس امن نہیں ہوگا اور ہم ایک اور جنگ کریں گے۔

اس ہفتے کے شروع میں قوم سے ایک غیر معمولی خطاب میں روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ان کے ملک کے پاس ’مختلف تباہ ہتھیار‘ ہیں اور ’ہم تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں گے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’میں بھڑک نہیں ما رہا ہوں۔‘

Reuters

جوزپ بوریل نے کہا کہ ’جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ خالی دھمکی نہیں ہے، تو آپ کو انھیں سنجیدگی سے لینا چاہیے۔‘

اسی تقریر میں صدر پوتن نے 300,000 اضافی روسی فوجیوں کو بلانے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے بعد ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور فرنٹ لائن پر بھیجے جانے کے ڈر سے ہزاروں روسی شہریوں کی ملک سے فرار ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ ردعمل میں یوکرین کی طرف سے اس دعوے کے بعد آیا جس میں یوکرینی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روسی افواج سے 8,000 مربع کلومیٹر (3,088 مربع میل) سے زیادہ کا علاقہ واپس چھین لیا ہے۔

اب روس میں شمولیت کے حوالے سے خود ساختہ ریفرنڈم چار مقبوضہ علاقوں میں کرائے جا رہے ہیں۔ یوکرین نے ان کو الحاق کی کوششوں کے طور پر مسترد کیا ہے اور اطلاع دی ہے کہ مسلح روسی فوجی گھر گھر جا کر ووٹ جمع کر رہے ہیں۔

EPA

لِز ڈیوسٹ کا تجزیہ

یوکرین جنگ کا موضوع اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں چھایا رہا ہے کیونکہ یہ مہنگی جنگ کسی واضح سمتکے بغیر جاری ہے۔ یورپ کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حیرت انگیز طور پر بہت کھرے اور بظاہر تکلیف میں نظر آ رہے تھے۔

انھوں نے وہ بے چین گریہ زاری بتائی جو وہ جہاں جاتے ہیں لوگوں سے سنتے ہیں۔

چُھٹی پر دوستوں سے ہونے والی ملاقات سے لے کر اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے دنیا بھر کے رہنماؤں تک سب ان سے یہ پوچھ رہے تھے کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی۔ ’یہ جنگ بند کرو، میں اپنا بجلی کا بل ادا نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔

جوزپ بوریل عوامی طور پر وہ کچھ کہنے کے لیے تیار تھے جس کا اظہار بہت سے لوگ نجی محفلوں میں کرتے ہیں یہ کہ یورپ اور اس کے اتحادی اس جنگ میں بیانیے کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے کیونکہ روس یہ نکتہ نظر پیش کر رہا ہے کہ روس کے خلاف یورپی پابندیوں سے عوامی مسائل میں اضافہ ہوا۔

لیکن ماسکو کی نئی اور تشویشناک دھمکیاں، جن میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے، غور طلب ہیں۔ دیگر رہنماؤں سمیت زیادہ تر مغربی رہنماؤں بشمول جوزپ بوریل یوکرین کے لیے اس جنگ کے دور رس نتائج کے بارے میں ان کی پوزیشن بڑی واضح ہے۔

جوزپ بوریل نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ یورپی یونین کے ہتھیاروں کی سپلائی کم ہو رہی ہے اور کہا کہ انھیں یوکرین کو فوجی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صدر پوتن اور ان کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگانا اور سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا ’مہلک کھیل‘ میں پوتن نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا؟

روس نے یوکرین میں لڑنے کے لیے تین لاکھ ریزرو فوجی طلب کر لیے

’بازو توڑنا پڑے یا ٹانگ کچھ بھی کروں گا، فوجی سروس کے لیے نہیں جاؤں گا‘

انھوں نے اعتراف کیا کہ اس تنازعے کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے ملک کے لوگ مجھے گیس کی قیمت بتاتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہم کام جاری نہیں رکھ سکتے، ہم اپنے کاروبار کو چلانا جاری نہیں رکھ سکتے‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ انھوں نے افریقہ، جنوبی امریکہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے رہنماؤں سے اسی طرح کے خدشات سُنے تھے۔

جوزپ بوریل نے صدر پوتن سے بات چیت کے ذریعے حل تک پہنچنے میں اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنازعے کی حل کی ذمہ داری دو طرفہ ہوتی ہے۔

’وہ تمام لوگ جو صدر پوتن سے بات کرنے کے لیے کریملن گئے، وہ ایک ہی جواب کے ساتھ واپس آئے کہ ’میرے (پوتن) کے عسکری مقاصد ہیں، اور اگر مجھے یہ عسکری مقاصد حاصل نہیں ہوئے تو میں لڑائی جاری رکھوں گا۔‘یہ یقینی طور پر ایک تشویشناک صورتحال ہے لیکن ہمیں یوکرین کی حمایت جاری رکھنی ہوگی‘۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More