BBC
پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سی ڈی اے اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے مشترکہ رہائشی منصوبے ’مارگلہ انکلیو‘ پر تعمیراتی کاموں کے دوران پہلی عالمی جنگ کے فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں تعمیر کی گئی ایک یادگار کو مسمار کر دیا گیا ہے۔
پہلی عالمی جنگ کی اس یادگار کو مسمار کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے محکمہ آثار قدیمہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس کی طرف سے سی ڈی اے سے کہا گیا تھا کہ اس کے تحفظ کے لیے کوئی منصوبہ بنایا جائے کیونکہ اسی کے قریب مغل دور کی ایک مسجد بھی واقع ہے۔ لیکن ان کے بقول سی ڈی اے کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اب یادگار کو گرانے کے بعد ’پوچھا جا رہا ہے کہ اس کا کیسے تحفظ کیا جا سکتا ہے۔‘
اہلکار کے مطابق یہ ایسا ہی ہے جیسے ’آپ کسی کو قتل کر کے کہیں کہ اسے کیسے زندہ کیا جائے؟‘
جب بی بی سی نے سی ڈی اے کے ترجمان سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے لاعلمی ظاہر کی ہے۔
سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے کا یہ مشترکہ رہائشی منصوبہ اسلام آباد کے زون فور میں واقع ہے اور قیام پاکستان سے پہلے سنہ 1914 کے دوران جس جگہ پر یہ یادگار تعمیر کی گئی تھی وہ کری روڈ پر واقع رہارا گاؤں ہے۔
یادگار کہیں اور منتقل کرنے کی درخواست جسے مسترد کیا گیا
سی ڈی اے اور نجی ہاؤسنگ سکیم نے چھ ماہ قبل محکمہ آثار قدیمہ سے رابطہ کیا تھا اور اُن سے یادگار کو اس کی اصل جگہ سے تقریباً 100 میٹر دور تعمیر کیے جانے والے ایک چوک پر منتقل کرنے کے لیے این او سی کی درخواست کی تھی۔
تاہم محکمے نے تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ یادگار رہارا جیسے دیہات کے بہادر سپاہیوں کے اعزاز میں تعمیر کی گئی تھی اور اسے منتقل کرنا صدی قبل ان کی تعمیر کے اصل مقصد کی نفی ہو گا۔
محکمے کا کہنا تھا کہ اس یادگار کو اسلام آباد کی تاریخی یادگاروں کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے اور اس کے لیے ضروری دستاویزات مانگی گئی تھیں۔ تاہم حکام کے مطابق سی ڈی اے نے اس ضمن میں مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کیا تھا۔
قومی ورثہ اور ثقافت کی وزارت کے حکام نے منگل کو اس یادگار اور اس کے قریب واقع مسجد کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس مسجد کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ مغلیہ دور میں تعمیر ہوئی تھی۔
تاہم روزنامہ ڈان کے مطابق منگل کے روز جب اہلکار موقع پر گئے تو یادگار کو مسمار کر دیا گیا تھا۔
BBCیادگار مسمار کیے جانے کے بعد کے مناظر جس میں اس کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے
اس سے قبل مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اس رہائشی منصوبے کے لیے گذشتہ دنوں ہیوی مشینری کی مدد سے ترقیاتی کام جاری رہا اور ابتدائی طور پر یادگار کے اردگرد کی زمین کو ہموار کر دیا گیا تھا۔
علاقہ مکینوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مٹی ہموار کرنے سے ’یادگار کا جھکاؤ ایک طرف ہو گیا ہے۔‘
فوجیوں کی خدمات کے اعتراف میں تعمیر ہونے والی یہ یادگار ایک 30 فٹ اونچے ٹیلے پر تعمیر کی گئی تھی اور علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ یادگار ان کے علاقے کے لیے فخر کا باعث تھی۔
دوسری عالمی جنگ میں مدد کرنے والے پاکستانی کو برطانیہ کا خراج تحسینجرمن یہودی ’میم صاحب‘ جو برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی ’آپا جان‘ بنیںجب گوجرانوالہ پر برطانوی جہازوں نے بمباری کیرحیم یار خان کا پراسرار پتن منارہ: مندر، سٹوپا یا سکندرِ اعظم کی یادگار؟
اس سے قبل سی ڈی اے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اسے گرایا نہیں ہے اور ڈی ایچ اے سے کہا ہے کہ اسے محفوظ بنانے کے لیے ہمیں پلان دیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس یادگار کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس یادگار کے ادرگرد ’چھوٹا پارک نما علاقہ بنایا جا رہا ہے تاکہ اس کو بہتر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔‘
’یادگار پر فوجیوں کے نام درج ہیں‘
اس یادگار کو محفوظ بنانے اور اسے کسی دوسری جگہ منتقل نہ کرنے سے متعلق فوج کے ریٹائرڈ افسران بھی متحرک ہیں اور ان میں سے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل علی حامد بھی شامل ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ان کی معلومات کے مطابق قیام پاکستان سے پہلے خطہ پوٹھوہار میں پچاس سے زیادہ ایسی یادگاریں تعمیر ہوئی تھیں جو ان علاقوں میں ان لوگوں کی خدمات کے اعتراف میں لگائی گئی تھیں جنھوں نے 1914 میں شروع ہونے والی پہلی عالمی جنگ میں حصہ لیا تھا۔‘
علی حامد نے کہا کہ ’جن علاقوں میں ان یادگاروں کو تعمیر کیا گیا، ان یادگاروں میں ان افراد کی تعداد لکھی ہوئی تھی جنھوں نے اس جنگ میں حصہ لیا۔ اس میں یہ بھی شامل تھا کہ کتنے لوگ جنگ سے واپس آئے اور کتنے لوگ اس جنگ میں مارے گئے۔‘
ریٹائرڈ میجر جنرل نے کہا کہ ان یادگاروں کو محفوظ بنانے کے لیے ان سمیت دیگر افراد نے متعلقہ اداروں کے علاوہ قومی ورثہ برائے ثقافت کی وزارت کو بھی اس ضمن میں اقدامات کرنے کے لیے خطوط لکھے تھے جنھوں نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ ان یادگاروں کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔
رحیم یار خان کا پراسرار پتن منارہ: مندر، سٹوپا یا سکندرِ اعظم کی یادگار؟دوسری عالمی جنگ میں مدد کرنے والے پاکستانی کو برطانیہ کا خراج تحسینجب گوجرانوالہ پر برطانوی جہازوں نے بمباری کیجرمن یہودی ’میم صاحب‘ جو برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی ’آپا جان‘ بنیںجلیانوالہ قتلِ عام: جب ہرا بھرا باغ خون سے لال ہوا