’رومانوی تعلق کے بغیر جنسی آزادی کی اجازت‘: اوپن ریلیشن شپ جس نے ایک ڈاکٹر کی زندگی بدل دی

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

Getty Imagesالیانا کا تعلق برازیل سے ہے

اپنی شادی کی دسویں سالگرہ پر مصنفہ، استاد اور پیشے کے اعتبار سے سیکسولوجسٹ ڈاکٹر الیانا الیعا نے اپنے شوہر کے سامنے ایک ایسی تجویز رکھی جس نے ان کی شادی کی بنیاد ہی بدل دی: یک زوجگی کو چھوڑ کر اس رشتے میں دوسرے لوگوں کی گنجائش نکالنا۔

اسے انگریزی زبان میں ’اوپن میرج یا اوپن ریلیشن شپ‘ کہا جاتا ہے۔

الیانا کا تعلق برازیل سے ہے اور انھوں نے کنٹیمپرری انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سیکسولوجی سے سیکس تھراپی کی تعلیم حاصل کی ہے۔ سنہ 2011 سے وہ سویڈن میں مقیم ہیں۔

وہ کچھ عرصے سے اوپن ریلیشن شپ پر تحقیق کر رہی تھیں اوراسی دوران اپنی کتاب ’ایما اور سیکس‘ بھی لکھ رہی تھیں۔ اس کتاب کے مرکزی کردار ایما کے ذریعے الیانا نے وہ خیالات بیان کیے جن پر وہ طویل عرصے سے تحقیق کر رہی تھیں۔

ان کے شوہر نے یہ تجویز قبول کر لی اور دونوں نے شراب پی کر اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ پانچ سال بعد یہ جوڑا اپنے رشتے کو ’مخلوط‘ (مکسڈ) قرار دیتا ہے اور اپنے اس نئے انتظام کو کامیاب سمجھتا ہے۔

لیکن الیانا اسے زیادہ رومانوی انداز میں بیان نہیں کرتیں۔

وہ کہتی ہیں ’ایسے رشتوں میں سے ایک تہائی بعد میں ختم ہو جاتے ہیں لیکن یہی اوسط عام رشتوں کی بھی ہے، یعنی فرق زیادہ نہیں پڑتا۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہ رشتہ چنیں جس میں آپ خود کو زیادہ مطمئن محسوس کریں۔‘

رضامندی پر مبنی اوپن ریلیشن شپErdark via Getty Imagesالیانا کہتی ہیں کہ رشتے میں موجود خرابیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے اوپن ریلیشن شپ کی طرف جانا شاذ و نادر ہی کارآمد ثابت ہوتا ہے

الیانا ’رضامندی پر مبنی اوپن ریلیشن شپ‘ کے تصور پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو ایسے لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جن کے ایک سے زیادہ جذباتی یا جنسی ساتھی ہوتے ہیں۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں شامل ہر فرد کے لیے سب کچھ بالکل شفاف انداز میں اور واضح رضامندی کے ساتھ ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ماہرین اسے کبھی کبھی ’اخلاقی یا ذمہ دار اوپن ریلیشن شپ ‘ بھی کہتے ہیں تاکہ اسے بے وفائی سے الگ سمجھا جائے۔

الیانا وضاحت کرتی ہیں ’یہ تصور ہر اُس رشتے پر لاگو ہوتا ہے جو اس میں شامل افراد کی باہمی رضامندی سے قائم ہو اور جس میں کسی نہ کسی حد تک جذباتی، جسمانی، رومانوی یا جنسی یکسانیت (یعنی صرف ایک ساتھی تک محدود رہنے) کے خیال کو لچک دی جاتی ہو۔‘

سیکس کی بڑھتی خواہش اور موڈ میں اُتار چڑھاؤ: جنوری کے سرد دن اور طویل راتیں ہمارے مزاج کو کیسے متاثر کرتی ہیں؟’بولنے کی اجازت تھی نہ کوئی راستہ تھا‘: خاتون کو اجنبیوں کے ساتھ سیکس پر مجبور کرنے والے شخص کو 16 برس قید کی سزاہم جنس پرستی، ایک ناکام سازش اور مردہ کتا: 50 برس پرانا سیکس سکینڈل جو ایک ڈرامائی مقدمے کی وجہ بناانڈونیشیا میں شراب نوشی اور شادی کے بغیر سیکس پر جوڑے کو سرعام 140 کوڑوں کی سزا

تاہم وہ اوپن ریلیشن شپ اور پولی ایموری (ایک وقت میں ایک سے زیاد ساتھی سے زیادہ تعلقات رکھنا) کے درمیان فرق کو واضح کرنا بھی ضروری سمجھتی ہیں۔

’اوپن ریلیشن شپ عام طور پر رومانوی تعلق کے بغیر جنسی آزادی کی اجازت دیتے ہیں، یعنی صرف وقتی ملاقاتیں، محبت میں مبتلا ہونا نہیں۔ پولی ایموری میں محبت اور جذبہ شامل ہوتا ہے، جس میں وہ کیفیت بھی آتی ہے جسے ’نئے رشتے کی خوشی‘ کہا جاتا ہے: یعنی دوبارہ محبت میں مبتلا ہونے کا جوش۔‘

الیانا خود اس طرزِ تعلقات پر عمل کرتی ہیں، جسے وہ ’مخلوط، حساسیت سے بھرپور، محبت بھرا اور ہمدردانہ معاہدہ‘ کہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا ایک قدم پولی ایموری کے اندر ہے۔ پوری طرح نہیں لیکن اس خیال کے ساتھ کہ ایک سے زیادہ لوگوں سے محبت کرنا اور رومانوی تعلق رکھنا ممکن ہے۔ میرے شوہر کو وقتی ملاقاتیں زیادہ پسند ہیں۔ ہم اس بارے میں بات کرتے رہتے ہیں۔‘

اپنے رشتے کے بارے میں سوچیںGetty Imagesاوپن ریلیشن شپ کی طرف جانے کے لیے آپ کو بات چیت اور ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے

الیانا کے تجربے میں وہ جوڑے جو اوپن ریلیشن شپ پر عمل کرنا شروع کرتے ہیں ان کی شروعات ’نہ پوچھو، نہ بتاؤ‘ کے اصول پر مبنی ہوتی ہے۔

الیانا وضاحت کرتی ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان صرف ایک دوسرے تک محدود رہنا شاید ممکن یا ضروری نہیں لیکن میں اس کے بارے میں جاننا نہیں چاہتی۔ تم مجھے کچھ مت بتاؤ اور میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گی۔‘

تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ یہ تجزبہ اکثر ناکام رہتا ہے کیونکہ اس میں ایمانداری اور رابطے کا فقدان ہے۔

’جو طریقہ لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے کے لیے بنایا گیا، وہ انھیں دور کرنے کا باعث بن جاتا ہے۔‘

الیانا مشورہ دیتی ہیں کہ اپنے پارٹنر سے اوپن ریلیشن شپ پر بات کرنے سے پہلے موجودہ رشتے کا ’جذباتی نقطہ نظر سے جائزہ‘ لینا ضروری ہے۔

’اپنے رشتے کے بارے میں سوچیں، اس میں کیا کمی ہے؟ آپ کی خواہشات کیا ہیں اور آپ کی حد کیا ہے؟ ایمانداری سے اپنی خواہشات ایک صفحے پر لکھیں۔ اسے صرف آپ ہی پڑھ سکیں گے اور کوئی نہیں دیکھے گا۔‘

اوپن ریلیشن شپ کی طرف جانے کے لیے آپ کو بات چیت اور ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

الیانا کہتی ہیں ’یہ ایک مشکل لمحہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر اُن لوگوں کے لیے جو اس خیال کے ساتھ پروان چڑھے ہیں کہ ایک ہی شخص سے تعلق محبت کا سب سے اعلیٰ طریقہ ہے اور یہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے درمیان احترام اور وفاداری کی علامت ہوتی ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’معاہدے بات چیت کے ذریعے طے ہوتے ہیں: آپ کس حد تک جائیں گے؟ کس کے ساتھ؟ اور یہ بہت اہم ہے کہ حدود کا مذاق نہ اُڑایا جائے بلکہ انھیں سمجھا جائے۔‘

الیانا کہتی ہیں کہ آپ کے قریب آپ کو سپورٹ کرنے والے لوگوں کی موجودگی بھی ضروری ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اس موضوع پر پڑھیں، پوڈکاسٹ سنیں۔ اپنی دلچسپیوں کی بنیاد پر گروپس تلاش کریں۔‘

الیانا مشورہ دیتی ہیں کہ ’بدنامی کا ڈر ایک حقیقت ہے۔ ایسے ماہرین سے رہنمائی لیں جو سمجھتے ہوں کہ محبت کو محسوس کرنے کے یہ طریقے بھی درست اور قابلِ قبول ہیں۔‘

الیانا مزید کہتی ہیں کہ رشتے میں موجود خرابیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے اوپن ریلیشن شپ کی طرف جانا شاذ و نادر ہی کارآمد ثابت ہوتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اگر ایسا ہے تو اوپن ریلیشن شپ کو بھول جائیں کیونکہ یہ نہ تو تھراپی ہے اور نہ ہی آخری حل۔ رشتے میں کھلا پن شعوری اور قدرتی طور پر اس وقت آتا ہے جب آپ کا رشتہ اچھا ہو اور دونوں اسے مل کر بہتر بنانا چاہتے ہوں۔‘

نفرت اور امیدErik Thor/Personal archiveالیانا 'رضامندی پر مبنی اوپن ریلیشن شپ' کے تصور پر یقین رکھتی ہیں

جب الیانا نے پہلی بار اپنی شادی میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں عوامی طور پر بات کی تو انھیں ہزاروں کی تعداد میں نفرت انگیز کمنٹس موصول ہوئے۔

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ’کچھ تبصرے بالکل بے تُکے تھے جیسے ’تم یہ سب اس لیے کر رہی ہو کیونکہ تم اپنے شوہر کو کھونا نہیں چاہتی۔‘

لیکن انھیں سپورٹ بھی ملی، جن میں ایسے جوڑوں کے خطوط شامل تھے جو محسوس کرتے تھے کہ وہ اب ان باتوں پر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

الیانا کی دلیل ہے کہ کوئی بھی یک زوجگی کے خیال کے ساتھ پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ کیا ایسا ہونا چاہیے؟ قوانین، عقائد، کہانیاں، خاندانی توقعات سب اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ محبت صرف دو لوگوں کے درمیان ہی مخصوص ہونی چاہیے۔ تاریخی طور پر مردوں کو آزادی حاصل تھی جبکہ عورتوں کو سزا دی جاتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ یہ نظام وراثت، مذہب اور نسب سے جڑا ہوا ہے۔

’جبری یک زوجگی یہ فرض کرتی ہے کہ صرف یہ اچھی، پاکیزہ اور بافضیلت ہے اور جو اس خیال سے ہٹ جائے، وہ بدنام ہے۔‘

Getty Imagesالیانا کے مطابق اپنی شادی کو اوپن ریلیشن شپ میں تبدیل کرنا انھیں ایمانداری اور آزادی کا احساس دلاتا ہے

تو کیا اب الیانا خوش ہیں؟ وہ کہتی ہیں ’اس بات میں کوئی شک نہیں۔‘

’لیکن یہ احساس اس بات سے بھی جڑا ہے کہ میں آج کون ہوں؟ پندرہ سال پہلے، صدمے اور دھوکے کے بعد میں اس کے لیے کبھی تیار نہ ہوتی۔ کبھی مجھے یک زوجگی ہی تحفظ کا احساس دلاتی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ خواہش کم ہوتی گئی۔ یہ عام بات ہے، طویل المدتی رشتوں میں سے 40 فیصد جنسی تعلق سے خالی شادیوں میں بدل جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اپنی شادی کو اوپن ریلیشن شپ میں تبدیل کرنا انھیں ایمانداری اور آزادی کا احساس دلاتا ہے۔

’محبت صرف اس لیے ختم نہیں ہونی چاہیے کہ لوگ سمجھتے ہوں کہ محبت کا ایک ہی طریقہ ہے۔‘

جی بی روڈ کی دلدل میں پھنسی کم عمر سیکس ورکرز: ’روزانہ 12 سے 15 گاہکوں کو سنبھالنا پڑتا تھا‘اندام نہانی میں موجود ’سینکڑوں بیکٹریا‘ خواتین کی حفاظت کیسے کرتے ہیں؟دیوداسی: ’دیوتاؤں کی دلہنیں‘ جو سیکس ورکر بن گئیںسعودی عرب میں متنازع کامیڈی فیسٹیول جہاں سیکس اور ہم جنس پرستی سے متعلق لطیفے سنائے گئےآٹھ وجوہات جن کی وجہ سے خواتین جنسی تعلق قائم کرنے کے باوجود تسکین حاصل نہیں کر پاتیںدوائیوں پر خوراک کے ممکنہ اثرات کتنے سنگین ہو سکتے ہیں اور 'ویاگرا' کس پھل کے ساتھ نہیں لینی چاہیے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More