’بلوچستان کو بہت محنت سے یہاں تلک لایا گیا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

Getty Images

سابق سینیٹر و وزیرِ اطلاعات مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ خان عبدالولی خان نے مجھے قصہ سنایا کہ جب اُنھوں نے ڈھاکہ کے ایوانِ صدر میں 22 یا 23 مارچ 1971 کو جنرل یحییٰ خان سے آخری ملاقات کی تو جنابِ صدر سلیپنگ گاؤن میں تھے۔ میں نے یحییٰ خان سے پوچھا کیا حل سوچا؟ انھوں نے بہت اطمینان سے کہا ’وی وِل شوٹ آور وے تھرو‘ ( ہم گولیوں سے اپنا راستہ بنا لیں گے)۔

نواب خیر بخش مری کی وفات سے کچھ عرصہ پہلے میں نے بی بی سی اردو کے لیے اُن کا طویل انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ایک سوال یہ بھی ہوا کہ آپ وفاق سے اتنے خفا کیوں رہتے ہیں؟ نواب صاحب نے منٹ بھر مُسکرانے کے بعد کہا ’ہم ناراض بالکل نہیں، ہم تو آپ سے اور آپ کے جھوٹ سے بیزار ہو چکے ہیں اور گلو خلاصی چاہتے ہیں۔‘

اہلِ اختیار اپنے تئیں مسلسل ثابت کرتے رہتے ہیں کہ وہ بلوچستان اور اس کی نفسیات سے کس قدر واقف بلکہ اس کے ماہر ہیں۔

مثلاً تین روز قبل وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اپنے دھواں دھار خطاب میں اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کیا کہ ملک دشمن عناصر بلوچستان کی پسماندگی اور محرومی کے بیانیے کو نوجوانوں کو ورغلانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق جبری گمشدگی کا بیانیہ من گھڑت ہے، یہ کوئی قوم پرست تحریک نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد اور سمگلروں کا گٹھ جوڑ ہے کیونکہ حکومت نے اُن کی چار ارب روپے روزانہ کی تیل کی سمگلنگ روک دی ہے۔

خواجہ آصف نے اعداد و شمار پیش کر کے احساس محرومی کے بیانیے پر بھی سوال اٹھایا۔ انھوں نے بتایا کہ 1947 میں صوبے میں 114 سکول تھے آج 1596 سکول، 12 یونیورسٹیاں، پانچ میڈیکل کالج، 145 دیگر کالج، 13 کیڈٹ کالج، 21 ٹکنیکل ادارے، 54 ہسپتال، چار امراضِ قلب کے مراکز، 24 ڈائیلیسس سینٹر، 756 بنیادی صحت مراکز اور 841 ڈسپنسریاں ہیں۔

خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں سب سے زیادہ ایئرپورٹ ہیں۔ آبادی کم ہے، ہر 35 کلومیٹر میں اوسطاً ایک شخص رہتا ہے۔ اتنے بڑے علاقے کو پُر امن رکھنے کے لیے زیادہ فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے۔

جب خواجہ صاحب نے اپنا خطاب ختم کیا تو 336 کے ایوان میں 10، 15 ارکان بیٹھے تھے۔

خواجہ صاحب کا پُر مغز معلوماتی خطاب سن کر مجھے اس مریض کا قصہ یاد آیا جس نے شکوہ کیا کہ ڈاکٹر صاحب اب تک ڈھائی ہزار روپے ایکسروں پر لگ گئے آرام پھر بھی نہیں آ رہا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی تو گذشتہ برس ہی فرما چکے کہ بلوچستان کی دہشت گردی ایک ایس ایچ او کی مار ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی نے تازہ ترین بد امنی کی لہر کے بارے میں یہ اطمینان بخش تسلی دی کہ ٹوٹل پانچ سے چھ ہزار دہشت گرد اور سہولت کار ہیں۔ ایک ہزار تو پچھلے برس مار دیے، باقیوں کا بھی قلع قمع جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بریکنگ نیوز بھی دی کہ ایک سرکاری سروے سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف دو سے تین فیصد لوگ انتہا پسندی کے حامی ہیں۔ انھی سرفراز بگٹی نے لگ بھگ چھ ماہ پہلے سرکاری ملازموں کی چتاؤنی دی تھی کہ وہ فیصلہ کر لیں کہ ریاست کے ساتھ ہیں یا دہشت گردوں کے ساتھ۔ اس بیان سے نوکر شاہی پر اُن کی آہنی گرفت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

وفاقی پالیسی ساز بھی اسی لاتعلق سماج کا حصہ ہیں۔ لاہور، کراچی یا اسلام آباد کا مقامی کوئٹہ کا نام اس لیے جانتا ہے کہ وہ صوبائی دارالحکومت ہے اور گوادر کا نام اس نے سنہ 2002 میں بندرگاہ اور سونے جیسی زمین کے سٹیٹ ایجنٹی نعروں یا سی پیک کے طفیل سنا۔ کسی تیسرے شہر کا نام پوچھ لیں تو سوچ میں پڑ جائے گا۔ 90 فیصد پاکستانیوں کے لیے بلوچ اور بلوچی میں فرق بتانا بھی مشکل ہے۔ (بلوچ قوم ہے اور بلوچی زبان ہے)

تھانوں پر حملے، یرغمال ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن: بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران کیا ہوا؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘کیا بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے؟کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟

عام آدمی کو چھوڑیے، نیشنل میڈیا کا معلوماتی معیار بھی لگ بھگ ایسا ہی ہے۔ یقین نہ آئے تو کسی نیوز ایڈیٹر سے کوئٹہ اور گوادر کا فاصلہ پوچھ کر دیکھ لیں۔ لہذا وفاقی یا میڈیائی سطح پر ایسا موثر جوابی بیانیہ بننا بہت مشکل ہے جس پر بلوچستان کا عام آدمی سنجیدگی سے دھیان دے سکے۔

یوں سمجھیے کہ بلوچستان کئی برس سے اطلاعاتی پنجرے میں ہے۔ یہاں میڈیا کو دونوں جانب سے خطرہ ہے۔ سرکاری پریس ریلیزوں اور اعداد و شمار پر گزارا ہے یا پھر علیحدگی پسندوں کی ویب سائٹس اور فیس بک پیجز سے دوسری جانب کی سوچ یا حال چال کا اندازہ ہوتا رہتا ہے۔ مگر جو بھی شائع یا نشر ہوتا ہے وہ کئی چھلنیوں سے گزر کر ہوتا ہے۔

Getty Imagesیکم فروری 2026 کو کوئٹہ کے مضافات میں علیحدگی پسندوں کے حملے کے بعد ایک پولیس سٹیشن کا منظر

گذشتہ جمعہ کو کتاب میلے میں شرکت کے لیے بذریعہ کوسٹل ہائی وے گوادر تک سفر کا موقع ملا۔ ہائی وے پر آج کل شام چھ بجے کے بعد کوئی سفر نہیں کرتا۔ پہاڑیوں کی چوٹی پر جگہ جگہ چھوٹی چھوٹی چوکیاں نظر آتی رہیں۔ شاید وہاں ایک وقت میں چار پانچ جوان ہی ڈیوٹی دیتے ہوں گے۔ میں سوچتا رہا کہ رات کے اندھیرے میں چہار جانب سے کھلے ویران علاقے میں یہ کیا کیا تصور کرتے ہوں گے۔

گوادر پورٹ کے سبب شہر میں سکیورٹی دستوں کا انتظام نسبتاً زیادہ ہے۔ شہر میں داخلے کے وقت پہلی چیک پوسٹ پر ہمارے شناختی کارڈز اور گاڑی کی تفصیلات کا اندراج ہوا۔ اگلی صبح مسلح افراد کا ایک بڑا جتھہ شہر میں بنا شناختی کارڈ جانے کیسے داخل ہوا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کئی دن پہلے سے موجود ہو اور حکم کا منتظر ہو۔

بہرحال ایک مسجد سے اعلان ہوا کہ سرمچار گلیوں میں پہرہ دے رہے ہیں۔ کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بہت سے بچے مسلح افراد کے پیچھے پیچھے ہو لیے جیسے کوئی تماشا ہونے والا ہو۔

کچھ مقامیوں نے بعد میں بتایا کہ بچے مسلح افراد کے ساتھ سیلفیاں بنوانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ دن بھر مختلف سمتوں سے وقفے وقفے سے فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں آتی رہیں۔ میلے کے منتظمین نے ہمیں ہوٹل سے باہر نکلنے سے منع کر دیا۔ اگرچہ اس ٹھوں ٹھاں کی وجہ سے پرانے شہر میں دکانیں بند رہیں مگر گلیوں کے اندر چائے ہوٹلوں پر رش کہاں کم ہوتا ہے۔

لوگ کہہ رہے تھے کہ اب یہ حالات زندگی کا حصہ ہیں۔ اس صورتحال کے لیے نئی لفظیات بھی وجود میں آ گئی ہیں۔ مثلاً ’سڑک پر بوندا باندی ہو رہی ہے‘، ’میچ چل رہا ہے‘، ’میراتھن لگی پڑی ہے‘، ’مچھلی پکڑی جا رہی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ اب گھر گھر تلاشی ہو گی اور پھر حالات پہلے جیسے ہو جائیں گے۔

یہ مسلح لوگ انڈیا، افغانستان، ایران یا کسی اور کے ایجنٹ ہیں یا جرائم پیشہ ہیں یا مٹھی بھر شر پسند ہیں یا یونیوسٹیوں اور کالجوں کے لڑکے لڑکیوں کو ورغلا کر خود کش بنانے والے ہیں۔ یہ باتیں اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں جانیں۔

شروع شروع میں مقامی لوگ شاید ان حالات سے خوفزدہ ہوتے ہوں مگر اب چہروں پر گبھراہٹ ہے نہ ڈر بلکہ ان کیفیات سے گزر کر زیادہ تر لوگوں کے لیے ٹریجڈی بھی کامیڈی ہو گئی ہے۔ یہ حالت فرد کی تنہائی کی آخری منزل کہلاتی ہے۔

سنہ 2002 کے بعد سے بالخصوص الیکشن کے عمل کو کوئی بھی ماہی گیر یا خوانچہ فروش دلچسپ سرکس سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ وہ قوم پرست سیاستدان جو آئینی جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اب ان کی فیصلہ ساز سنتے ہیں اور نہ ہی عام لوگ۔ تیز رفتار وقت نے ایسی کلاسیکی سیاست کو عجائب گھر میں رکھ دیا۔ یعنی انتہا پسندی اور اعتدال پسندی کے بیچ کا پُل گر گیا۔

آج دونوں جانب ایک ہی سوچ اور چلن ہے۔ آپ ہمارے ساتھ نہیں تو پھر غدار ہیں۔

بہت محنت ہوئی ہے بلوچستان کو یہاں تک لانے میں۔ اس محنت کا پھل کچھ لوگ کھا رہے ہیں۔ باقی دیکھ رہے ہیں۔

تھانوں پر حملے، یرغمال ڈپٹی کمشنر اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن: بلوچستان میں شدت پسندوں کے حملوں کے دوران کیا ہوا؟جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانیکیا خان آف قلات بلوچستان کو انڈیا کا حصہ بنانا چاہتے تھے؟بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘کیا بلوچستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا ہے؟کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More