ملتان سلطانز کی دوبارہ نیلامی: علی ترین سمیت کن پانچ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ ہو گا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

Getty Images

پی ایس ایل کی نیلامی میں ملتان سلطانز کی فرنچائز کے حصول کے لیے پانچ کمپنیوں کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا ہے۔

ان میں علی ترین بھی شامل ہیں جو گذشتہ برس فرنچائز چھوڑنے کے بعد ایک بار پھر اسے واپس حاصل کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں۔

علی ترین کے علاوہ والی ٹیک اور ایم نیکسٹ اینک بھی نیلامی کے عمل میں شریک ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں گذشتہ ماہحیدرآباد اور سیالکوٹ فرنچائز کی نیلامی میں حصہ لے چکی ہیں مگر ناکام رہی تھیں۔

یاد رہے کہ حیدرآباد اور سیالکوٹ کی فرنچائزز بالترتیب 175 کروڑ اور 185 کروڑ روپے میں فروخت ہوئی تھیں۔

اس کے علاوہ سی ڈی وینچر اور پارٹیکل ایگنائٹ پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی نیلامی میں شامل ہونے والی نئی کمپنیاں ہیں جس سے اس بار مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

ملتان سلطانز کے لیے کون کون بولی لگائے گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق مقررہ آخری تاریخ تک دلچسپی رکھنے والے فریقین کی جانب سے مجموعی طور پر چھ تجاویز موصول ہوئیں، جن کا پی سی بی کی بڈ کمیٹی نے تفصیلی اور شفاف انداز میں جائزہ لیا۔ ان میں سے پانچ بولی دہندگان کو تکنیکی طور پر اہل قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ پی سی بی نے ملتان سلطانز کی نیلامی کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل 11 فروری کو شیڈول پلیئرز کی نیلامی سے پہلے 9 یا 10 فروری کو مکمل کیا جائے گا۔

پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر کا کہنا ہے کہ ’ملتان سلطانز کی فرنچائز رائٹس میں غیر معمولی دلچسپی دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔ ایچ بی ایل پی ایس ایل تمام تکنیکی طور پر اہل بولی دہندگان کو مبارکباد دیتا ہے اور ان اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنھوں نے ٹینڈر کے پورے عمل کے دوران ہمارے ساتھ رابطہ رکھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شائقین ایک اور سنسنی خیز نیلامی کے منتظر ہیں، جس کے بعد توجہ ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی اہم پلیئر نیلامی کی جانب منتقل ہو جائے گی۔

'آٹھ ٹیموں کے مالکان کی حتمی فہرست پی ایس ایل کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی۔‘

علی ترین

علی ترین ڈہرکی شوگر ملز کے ذریعے نیلامی کے عمل میں شریک ہیں۔ ان کا کاروباری گروپ زراعت اور سٹریٹیجک سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرگرم ہے اور ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

علی ترین نے اس مرتبہ بھی اسی کمپنی کے ذریعے دستاویزات جمع کروائی ہیں جو گذشتہ نیلامی میں تکنیکی طور پر اہل قرار پائی تھی تاہم اُس موقع پر انھوں نے نیلامی شروع ہونے سے چند منٹ قبل اچانک دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

اُس وقت علی ترین کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملتان سلطانز کے لیے ہی دوبارہ بولی لگائیں گے کیونکہ اس فرنچائز کے ساتھ ان کا طویل تعلق رہا ہے۔

جاری کیے گئے اپنے ایک بیان میں علی ترین نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں ان کی شمولیت کی بنیاد ہمیشہ کاروباری مفادات کے بجائے علاقائی شناخت رہی۔

علی ترین کے مطابق ’غور و فکر کے بعد میرے خاندان اور میں نے فیصلہ کیا کہ آج کی پی ایس ایل فرنچائز نیلامی میں حصہ نہیں لیں گے۔ ملتان سلطانز کے ساتھ ہمارا تعلق محض ایک کرکٹ ٹیم کی ملکیت تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ جنوبی پنجاب کی نمائندگی اور اس خطے کو آواز دینے کی ایک کوشش تھی جسے طویل عرصے تک نظرانداز کیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مستقبل میں پی ایس ایل میں واپس آئے تو اس کی وجہ بھی یہی ہوگی۔ ’جنوبی پنجاب میرے دل کے قریب ہے، یہ میرا گھر ہے، اور اگر میں واپس آیا تو اسی شناخت کے ساتھ آؤں گا۔‘

اب منگل کے روز اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں علی ترین کا کہنا ہے کہ انھیں پی ایس ایل میں کی گئی نئی تبدیلیاں پسند آئی ہیں جن میں پلیئر آکشن، براہِ راست سائننگ، بہتر ریٹینشن اور ایمرجنگ رولز کے علاوہ ادائیگیوں کا شفاف نظام شامل ہے۔

علی ترین اور ’ملتان سلطانز‘ کو چلانے کا خرچہ: پی ایس ایل کی فرنچائزز پیسہ کیسے کماتی ہیں؟رانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘سرفراز احمد کی انڈر 19 میچ کے دوران فون استعمال کرنے کی تصویر پر شورانڈین چینلز اس بار پی ایس ایل کے میچز کیوں نہیں دکھا سکیں گے؟والی ٹیک

یہ ایک ٹیکنالوجی پر مبنی میڈیا اور فِن ٹیک گروپ، جو اس سے قبل پی ایس ایل کے ڈیجیٹل رائٹس حاصل کر چکا ہے اور حال ہی میں لیگ کے بین الاقوامی نشریاتی حقوق بھی جیت چکا ہے۔

گذشتہ نیلامی کے دوران والی ٹیک نے پہلے مرحلے میں 1 ارب 11 کروڑ 50 لاکھ روپے اور بعد ازاں 1 ارب 23 کروڑ روپے کی بولی لگائی۔ تاہم دوسرے مرحلے میں کمپنی مزید پیش رفت نہ کر سکی۔

سی ڈی وینچر

یہ برطانوی اور پاکستانی شراکت داروں پر مشتمل ایک مشترکہ کمپنی ہے جو پہلی مرتبہ پی ایس ایل کی فرنچائز نیلامی کے عمل میں حصہ لے رہی ہے۔

ایم نیکسٹ اینک

ٹیکنالوجی اور جدت (انوویشن) پر کام کرنے والی کمپنی، جو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے جدید حل فراہم کرتی ہے۔

ایم نیکسٹ اینک نے دوسرے مرحلے میں تین بولیاں لگائیں اور ان کی آخری پیشکش ایک ارب 76 کروڑ روپے تک جا پہنچی لیکن وہ بھی فرنچائز حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

ملتان سلطانز دوبارہ کیوں فروخت کی جا رہی ہے؟

ملتان سلطانز اور علی ترین کے درمیان فرنچائز معاہدہ 31 دسمبر کو ختم ہو چکا۔ پی سی بی نے علی ترین سے فرنچائز فیس 1.1 ارب روپے سے بڑھا کر 1.375 ارب روپے کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم علی ترین نے اس پر ٹیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادانہ ویلیوایشن میں ملتان سلطانز کی قدر تقریباً 85 کروڑ روپے لگائی گئی تھی، جو اس وقت کی مجوزہ فرنچائز فیس سے بھی کم تھی۔

ابتدا میں پی سی بی نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ٹیم کو ایک سیزن کے لیے خود چلایا جائے گا کیونکہ اسی دوران دو نئی فرنچائزز کی فروخت کا عمل جاری تھا۔

تاہم حیدآباد اور سیالکوٹکی فرنچائزز کی نیلامی میں غیر معمولی دلچسپی اور توقع سے کہیں زیادہ بولیاں موصول ہونے کے بعد پی سی بی نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کی۔

دونوں فرنچائزز بالترتیب ایک ارب 75 کروڑ اور ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جو نہ صرف بورڈ کے اپنے تخمینوں بلکہ مارکیٹ کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔

اس پیشرفت کے بعد پی سی بی نے ملتان سلطانز کو خود چلانے کے بجائے دوبارہ مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا۔

ملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘رانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘جب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایاانڈین چینلز اس بار پی ایس ایل کے میچز کیوں نہیں دکھا سکیں گے؟عمر گل کے یارکرز، آفریدی اور اجمل کی گھومتی گیندیں،ٹی 20 کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا سنہرا دور اور پھر تنزلی کی کہانی’ریٹائرڈ آؤٹ‘ کیا ہے جس کے ذریعے رضوان کو اپنی ہی ٹیم کے کپتان نے پویلین واپس بلا لیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More