ہارس شو کیکڑا: جس کا نیلا خون آپ کی زندگی بچا سکتا ہے

بی بی سی اردو  |  Jun 02, 2020

سنہ 1970 سے سائنسدان نیلے خون والے اس کیکڑے کے خون کی مدد سے میڈیکل آلات کی صفائی چیک کرتے آ رہے ہیں

دنیا میں شاید بہت سے لوگوں کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ان کی صحت کا دارومدار نیلے خون والے ایک ایسے کیکڑے پر ہو سکتا ہے جو دیکھنے میں مکڑی اور بچھو کا ملاپ لگتا ہے۔

'ہارس شو کیکڑا' دنیا کے سب سے پرانے جانداروں میں سے ایک ہے۔ کم از کم 45 کروڑ برس سے زیادہ عرصے سے زمین پر وجود رکھنے والے یہ کیکڑے ڈائناسور سے بھی قدیم ہیں۔

'اٹلانٹک ہارس شو' کیکڑوں کو بہار کے موسم سے مئی اور جون کے درمیان پورے چاند کی راتوں میں اس وقت دیکھا جا سکتا ہے جب سمندری لہریں اپنے عروج پر ہوتیں ہیں۔

اس معاملے میں ہم خوش قسمت ہیں کہ یہ کیکڑا آج بھی بحر اوقیانوس اور بحر ہند میں پایا جاتا ہے اور اس کیکڑے نے اب تک لاکھوں زندگیوں کو بچایا ہے۔

Getty Images
ایک لیٹر نیلے خون کی قیمت 11 لاکھ روپے سے زيادہ ہوسکتی ہے

نیلے خون کا استعمال

سنہ 1970 سے سائنسدان اس کیکڑے کے خون کی مدد سے میڈیکل آلات کی صفائی چیک کرتے آ رہے ہیں۔ آپریشن میں استعمال ہونے والے میڈیکل آلات پر خطرناک بیکٹریا کی موجودگی مریض کی جان لے سکتے ہیں لیکن اس کیکڑے کا خون بیکٹریا کی نشاندہی کر دیتا ہے۔

یہ بھی دیکھیے:

کیکڑے کے نیلے خون کا استعمال اس وقت بھی کیا جاتا ہے جب انسانی جسم کے اندر لگائے جانے والے آلات بنائے جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ خون اس بات کی جانچ کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے کہ یہ آلات بیکٹریا سے پاک ہیں یا نہیں۔ ان میں ایچ آئی وی اور متعدد دیگر ویکسینز کے ٹیکوں میں استمعال کیے جانے والے آلات بھی شامل ہیں۔

Getty Images
ان کیکڑوں کے تین فی صد خون کو محفوظ کر لیا جاتا ہے

ایک بڑا کاروبار؟

اٹلانٹک سٹیٹس مرین فشریز کمیشن کے مطابق ہر سال تقریباً پانچ کروڑ اٹلانٹک ہارس شو کیکڑوں کو طبی ضروریات کے لیے پکڑا جاتا ہے۔ ان کیکڑوں کا خون دنیا کے سب سے مہنگے سیال میں سے ایک ہے۔ ان کیکڑوں کے ایک لیٹر خون کی قیمت 15 ہزار ڈالر تک ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کی وجہ سے ان کیکڑوں کو انڈے دینے اور پھل پھولنے کا مناسب ماحول نہیں مل پارہا ہے۔

خون کا رنگ نیلا کیوں؟

اس کیکڑے کے نیلے خون کی وجہ اس خون میں تانبے کی موجودگی ہے۔ اس کے برعکس انسان کے خون میں آئرن کی موجودگی زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسانی خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔

لیکن سائنسدان اس کیڑے میں اس لیے دلچسپی نہیں رکھتے کہ اس کا رنگ نیلا ہوتا ہے بلکہ اس کے خون میں ایک مخصوص کیمیکل پایا جاتا ہے جو بیکٹریا کے ارد گرد جمع ہو کر اسے قید کر لیتا ہے۔ یہ خون بیکٹریا کی شناخت کرسکتا ہے۔

Getty Images
بعض جائزوں کے مطابق خون نکالے جانے کے عمل کے دوران 30 فی صد کیکڑوں کی موت ہو جاتی ہے

مرنے کے بعد کیکڑوں کا کیا ہوتا ہے؟

کیکڑے کی پشت کے ذریعے اس کے دل کے قریب سوراخ کرنے کے بعد اس کا 30 فی صد خون نکال لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کیکڑے کو واپس سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے 10 سے 30 فی صد کیکڑے اس عمل کے دوران مر جاتے ہیں۔ اس کے بعد جو مادہ کیکڑے بچ جاتے ہیں انھیں دوبارہ بچوں کے جنم دینے یا اپنی نسل آگے چلانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پوری دنیا میں فی الوقت ہارس شو کیکڑے کی چار نسلیں بچی ہیں۔

یہ چاروں نسلیں میڈیکل شعبے میں بہت زیادہ استمعال ہونے اور مچھلیوں کی خوراک کے طور پر پکڑے جانے کی وجہ سے بہت تیزی سے ختم ہورہی ہیں۔ ان کے ختم ہونے کی ایک بڑی وجہ ماحولیات میں تبدیلی بھی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More