آن لائن کلاسیں لینے والے بین الاقوامی طلبہ امریکہ میں نہیں رہ سکیں گے، نیا حکم جاری

بی بی سی اردو  |  Jul 07, 2020

Reuters

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں زیرِ تعلیم وہ یونیورسٹی طلبا جن کی کلاسیں مکمل طور پر آن لائن ہو چکی ہیں، ان کا ملک میں رہنا غیر قانونی قرار پائے گا۔

محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام نے غیر ملکی طلبا کو سپرنگ اور سمر 2020 کے آن لائن کورسز ملک میں رہتے ہوئے لینے کی اجازت دی تھی۔

تاہم پیر کے روز کیے گئے اعلان میں حکام نے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی طلبا جو آن لائن کلاسوں کے لیے مندرج ہوتے ہوئے امریکہ میں رہیں گے اور ذاتی طور پر پڑھائے جا رہے کسی کورس میں حصہ نہیں لیں گے، انھیں 'امیگریشن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے' جس میں ملک بدری کی کارروائی کا آغاز بھی شامل ہے۔

نئے ضوابط کا اطلاق ایف ون اور ایم ون ویزا کے حامل افراد پر ہوگا جو طلبا اور ہنری تربیت حاصل کر رہے افراد کو دیا جاتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق محکمے نے مالی سال 2019 میں تین لاکھ 88 ہزار 839 ایف ویزے اور نو ہزار 518 ایم ویزے جاری کیے تھے۔

امریکہ کے محکمہ تجارت کے مطابق غیر ملکی طلبا کی وجہ سے سنہ 2018 میں امریکی معیشت کو 45 ارب ڈالر (36 ارب پاؤنڈ) کا فائدہ ہوا۔

یونیورسٹیوں کی جانب سے ردِ عمل

سٹینفورڈ یونیورسٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کو اس فیصلے پر تشویش ہے جس سے غیر ملکی طلبا کے لیے مزید غیر یقینی صورتحال اور پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

یونیورسٹی کے صدر مارک ٹیسیئے لیوائین نے کہا: 'ہمارے غیر ملکی طلبا کو اپنی ڈگریوں کی تکمیل کا سفر جاری رکھنے دیا جانا چاہیے اور ایک یونیورسٹی کے طور پر ہمارا عزم ہے کہ ہم ایسا کرنے میں ان کی مدد کریں۔'

انھوں نے کہا کہ جہاں وہ یہ پرکھنے کی کوشش کریں گے کہ ان نئے قواعد کی روشنی میں ایسا کیسے کیا جا سکتا ہے، وہیں وہ (ملک کی) انتظامیہ پر بھی زور دیں گے کہ وہ اپنے مؤقف پر دوبارہ غور کرے۔

اسی دوران ییل، پرنسٹن اور دیگر یونیورسٹیوں نے بھی اپنی اپنی ویب سائٹس پر اعلامیے جاری کیے ہیں کہ وہ تازہ ترین ضوابط پر غور کر رہے ہیں کہ اس سے نئے اور موجودہ غیر ملکی طلبا کس طرح متاثر ہوں گے۔

ان یونیورسٹیوں نے طلبا سے کہا ہے کہ انھیں جلد از جلد اس حوالے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

’لوگوں کو امریکی نہ ہونے کی سزا دی جا رہی ہے‘

یہ خبر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ صحافی گیبی ڈیلوالے نے لکھا کہ وہ آئی سی ای کے جاری کردہ نئے ضوابط کی کوئی ایک توجیہہ بھی نہیں تلاش کر سکی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی طبی یا 'سیکیورٹی' نقطہ نظر سے فائدہ نہیں، بلکہ اس کی واحد مقصد لوگوں کو امریکی نہ ہونے کی سزا دینا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More