افریقی محقق کا کرونا ویکسین کے حصول سے متعلق اہم اعلان

نوائے وقت  |  Jul 10, 2020

جنوبی افریقی محقق نے کہا ہے کہ افریقا اگلے برس کی پہلی سہ ماہی میں کرونا ویکسین کا حامل ہو سکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقی یونی ورسٹی وِٹ واٹرز رینڈ کے پروفیسر شبیر مضی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقا اگر کرونا ویکسین کے جاری انسانی آزمائش میں کامیاب ہو گیا تو اگلے برس 2021 کے پہلے تین ماہ میں افریقا کے پاس ویکسین موجود ہوگی۔جنوبی افریقا میں تیار کی جانے والی ویکسین ChAdOx1 nCoV-19 ان 19 ویکسینز میں سے ایک ہے، انسانوں پر جن کی آزمائش اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں جاری ہے، تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اس دوڑ میں کون سب سے پہلے کرونا ویکسین حاصل کر لے گا۔مذکورہ ویکسین کو برازیل میں بھی آکسفرڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں کے ذریعے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے، یہ سائنس دان برطانوی دوا ساز کمپنی آسترا زینیکا کے ساتھ مل کر ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔جنوبی افریقی شہر جوہانسبرگ میں قائم وِٹ واٹرز رینڈ یونی ورسٹی میں ویکسینالوجی کے پروفیسر اور ویکسین کی تیاری کے منصوبے کے سربراہ شبیر مضی نے بتایا کہ افریقا میں اگلے برس کے شروع میں ایک ویکسین تجارتی سطح پر آ سکتی ہے، لیکن اس کا مکمل انحصار کلینیکل ٹرائلز کے نتائج پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جن 19 ویکسینز کی انسانوں پر آزمائش جاری ہے، ان میں سے اگر صرف 2 بھی کامیاب رہیں تو یہ نہایت مثبت نتیجہ ہوگا۔شبیر مضی نے کہا کہ انسانوں پر آزمائش کا انحصار ان 18 سے 65 برس عمر کے 2 ہزار رضاکاروں پر ہے جنھیں ویکسی نیشن کے بعد 12 ماہ تک نگرانی میں رکھا جائے گا، ابتدائی نتائج رواں برس نومبر یا دسمبر میں متوقع ہیں، ویکسین کی افادیت اس وقت تسلیم کی جائے گی جب ہمارے پاس ٹیکے لگانے کے ایک ماہ بعد اندازے کے مطابق صرف 42 کو وِڈ 19 کیسز ہوں۔شبیر مضی کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ 25 سال سے افریقی مینوفیکچررز نے کوئی بھی ایک ویکسین تک نہیں تیار کی۔واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں اب تک کرونا وائرس انفیکشن سے 3,720 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 2 لاکھ 38 ہزار کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ نیپال نےتمام نجی بھارتی نیوزچینلزپرپابندی عائدکردی

نیپال نےتمام نجی بھارتی نیوزچینلزپرپابندی عائدکردی

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More