سری لنکن شہری کی ہلاکت کے واقعےمیں پنجاب پولیس کی اہم پیش رفت

بول نیوز  |  Dec 03, 2021

سیالکوٹ فیکٹری ملازمین کے تشدد سے سری لنکن شہری کی ہلاکت کے واقعے میں پنجاب پولیس کی اہم پیش رفت سامنے آگئی۔

اپنے ایک بیان میں ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے۔

پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا کہ مرکزی ملزم فرحان ادریس کو ویڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

سیالکوٹ واقعہ میں پولیس نے تشدد کرنے اور اشتعال انگیزی میں ملوث ملزمان میں سے ایک مرکزی ملزم فرحان ادریس کو گرفتار کر لیا ہے۔ 100سے زائد افراد کو حراست میں لےلیا ہےآئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں باقی ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جارہے ہیں@UsmanAKBuzdar pic.twitter.com/v7YOpQxwXs

— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) December 3, 2021

 انہوں نے کہا کہ پولیس نے واقعہ میں ملوث 100سے زائد افراد کو حراست میں لےلیا ہے، جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

ترجمان پنجاب پولیس کا  مزید کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب سارے معاملہ کی خود نگرانی کر رہے ہیں  اور  آر پی او گوجرانولہ، ڈی پی او سیالکوٹ سمیت سینئر پولیس افسران فیلڈ میں موجود ہیں۔

یاد رہے کہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں ایک انتہائی افسوس ناک واقع پیش آیا جہاں توہین مذہب اور گستا خی پر نجی فیکٹری راجکو انڈسٹری کے جنرل مینیجر کو مشتعل ہجوم نے تشدد کر کے قتل  کر دیا جس کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی ۔

مظاہرین نے تشدد کرتے وقت لبیک لبیک کے نعرے لگائے جبکہ مشتعل افراد نے فیکٹری کا بھی گراؤ کر لیا اور وزیر آباد روڈ ٹریفک کے لئے بند کر دیا۔

 سیالکوٹ پولیس کا واقعے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریا نتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکڑی میں بحثیت ایکسپورٹ مینیجر کے خدمات انجام دے رہے تھے۔

اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک انتہائی بری طرح جلی ہوئی لاش لائی گئی ہے جو پوری طرح راکھ بن چکی ہے۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More