آج پھر خلوص دل سے میثاق معیشت کی پیشکش کررہا ہوں، وزیراعظم

ہم نیوز  |  Aug 13, 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج پھر خلوص دل سے میثاق معیشت کی پیشکش کررہا ہوں،ہم سب کو قومی مفاد کے لیے ذاتی مفاد کوقربان کرنا ہو گا۔ 

قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ پالیسیوں کے تسلسل،معاشی استحکام سے مشکلات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں انتخابات پر نہیں، آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھنا ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 75ویں یوم آزادی پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، لاکھوں قربانیوں کے بعد پاکستان حاصل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہرسال دھوم دھام سے یوم آزادی مناتے ہیں،کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ اپنی نوجوان نسل کو ان کے حقوق نہیں دے سکے، قائداعظم کا عمل اور علامہ اقبال کی فکر ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری قوم ہر مقصد کو کامیاب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، آج قوم کو مایوسی کے ایک اور بحران کا سامنا ہے،انتشار اور نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم کو تقسیم درتقسیم اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے، پچھلی حکومت کے پیدا کردہ معاشی صورتحال نے صورتحال کو سنگین بنادیا ہے، آج مالی محتاجی ہماری شناخت بن گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہر بحران میں مواقع چھپے ہوتے ہیں،دیکھنے کو چشم اور کرنے کو عزم چاہئے،اس جدوجہد کی ابتدا ہم کر چکے ہیں،ہم نے مختصر وقت میں پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئےدن رات محنت کی،پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ سابق حکومت نے48ارب ڈالرز کا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تجارتی خسارہ چھوڑا،اس تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے ہمیں قرض لینا پڑا،کیا یہ ہے حقیقی آزادی؟

انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نےپونے 4 سال میں تاریخ کاسب سےزیادہ قرض لیا،گزشتہ حکومت کی غفلت کےباعث گندم باہرسےمنگوانےپرمجبورہیں،سابق حکومت نےایل این جی سستی ہونےپرکوئی معاہدہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نےسی پیک منصوبےبندکرکےناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی روپیہ دن بدن مضبوط ہو رہا ہے، اربوں ڈالرخرچ کر کے باہرسے تیل وگیس منگوا کرمہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں،اس لیے ہزاروں میگاواٹ کے سولر منصوبے لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے عوام کوسستی بجلی مہیا ہوگی۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More