روس میں کوروناویکسین تیار۔۔پہلاٹیکہ کس کولگایاگیا،جان کرحیران رہ جائیں گے

روزنامہ اوصاف  |  Aug 11, 2020

ماسکو(ویب ڈیسک)روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دنیا بھر میں سب سے پہلے تیار ہونے والی ویکسین تیار کرلی ہے جو ملکی محکمہ صحت کی رجسٹریشن کے بعد استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے انکشاف کیا ہے کہ گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر میں تیار کی گئی کورنا وائرس کی پہلے ویکسین کو ملک کے محکمہ صحت سے رجسٹریشن بھی مل گئی ہے جس کے بعد اسے ملک میں استعمال کیا جاسکے گا۔ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے روس کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین کے پہلے ٹیکے میری بیٹیوں کو لگائے گئے جس سے اُن میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوئی جب کہ دیگر رضاکاروں میں بھی ٹرائل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ کامیاب ٹرائل اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعد ویکسین کی رجسٹریشن کرلی گئی ہے۔اس حوالے سے گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر کے سربراہ الیگزینڈر گینٹز برگ نے بتایا کہ ویکسین ایڈینو وائرس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں کووڈ-19 کے مردہ مریضوں کے کورونا وائرس کے ذرات بھی شامل ہیں۔الیگزینڈر برگ نے مزید وضاحت پیش کی کہ مردہ مریضوں کے کورونا وائرس ذرات تقسیم در تقسیم نہیں ہونے کے باعث ویکسین کے لیے انتہائی محفوظ ہیں۔ یہ ذرات کورونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی صورت میں مدافعتی نظال کو فعال کردیتے ہیں۔یاد رہے روس کی ویکسین دیگر ممالک کی اُس 6 ویکسین کی فہرست میں شامل نہیں جو عالمی ادارہ صحت کے مطابق تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں داخل ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ان کا ٹرائل جاری ہے۔عالمی ادارہ صحت ویکسین کی تیاری اور ٹرائل کے مراحل پورے کرنے کے بعد ہی کسی ویکسین کے استعمال کی اجازت دیتی ہے تاہم روس نے اپنی ویکسین کی تیاری کے لیے اب تک عالمی ادارہ صحت سے رجوع نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ چین سے جنم لینے والے کورونا وائرس نے دنیا کے 188 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دنیا بھر میں 25 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی مختلف ممالک میں 100 سے زائد ویکسین کی تیاری کا عمل جاری ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More