ترک کمپنیوں پر یورپی یونین کی پابندیاں، انقرہ کا دہرے معیار کا الزام

روزنامہ اوصاف  |  Sep 22, 2020

برسلز/انقرہ(ویب ڈیسک)یورپی یونین نے لیبیا کے لیے ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر تین کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں جن میں ترکی، قزاقستان اور اردن کی کمپنیاں بھی شامل ہیں،انقرہ نے ان پابندیوں پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین دہرے معیار رکھتی ہے،ایک ایسے وقت میں جب مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے ایسے غلط فیصلے کرنا مناسب نہیں ۔ جبکہ ترکی نے اس فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا نے یورپ کے ایک سرکاری اخبار کے حوالے سے بتایا ہے کہ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ ان کمپنیوں کے یورپی یونین میں موجود اثاثوں کو منجمند کیا جائے گا، یورپی یونین کی فنانس مارکیٹ سے علیحدہ کیا جائے گا اور ان کو یورپی بلاک میں کسی ملک کے ساتھ کاروبار کرنے سے روکا جائے گا۔تاہم ترک کمپنی پر پابندی لگانے سے مشرقی بحیرہ روم میں یورپی یونین اور ترکی کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترک کمپنی اوراسیا شپنگ کے ایک جہاز کا نام سرکن ہے جس نے مئی اور جون میں ہتھیاروں پر پابندی کے باوجود لیبیا کے لیے فوجی سازو سامان پہنچایا۔ ترکی کی وزارت خارجہ نے یورپین یونین کے اس فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ترک وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوشش کی جارہی ہے، ایسے غلط فیصلے کرنا مناسب نہیں ہے۔
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More