کراچی میں مون سون کا چوتھا اسپیل، ہر سو پانی ہی پانی، کرنٹ لگنے سے 6 جاں بحق

92 نیوز  |  Aug 07, 2020

کراچی (92 نیوز) کراچی میں مون سون کا چوتھا اسپیل اپنے جوبن پر ہے، کراچی کی کئی شاہراہ دریا کا منظر پیش کررہی ہیں، گارڈن، سولجر بازار، کارساز، اسٹیڈیم روڈ، شہید  ملت روڈ، صدر سمیت کئی علاقوں میں یہی صورتحال ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

مون سون کا چوتھا اسپیل، کراچی میں ہر سو پانی ہی پانی، سندھ حکومت اور انتظامیہ کی روایتی نااہلی سے ابر رحمت ایک بار پھر کراچی والوں کیلئے زحمت بن گئی۔

بڑے بڑے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود سڑکوں اور شاہراہوں پر  کھڑے بارش کا پانی شہریوں کے صبر کا امتحان لیا سولجر بازار، جہانگیر روڈ، لیاقت آباد، شاہ فیصل کالونی، لائنزایریا، ایف بی ایریا، ناظم آباد، ملیر،اسٹیڈیم روڈ، گلشن اقبال، صدر، آئی آئی چندریگڑھروڈ، اولڈ سٹی ایریاز، صدر، گارڈن، سرجانی اور اورنگی ٹاؤن میں صورتحال ابتر ہے۔

گلبرگ رحمان آباد، اور عزیز آباد بلاک ٹو میں تو بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، جبکہ نیو ایم اے جناح روڈ پر شہری بارش کے پانی میں کشتیاں چلانے لگے۔

ایم اے جناح روڈ، شاہراہ فیصل اور دیگر شاہراہوں کئی کئی فٹ پانی کھڑا  ہونے پر شہریوں نے بھی مایوسی کا اظہار کیا۔

محکمہ موسمیات کے اعدادوشمار کے مطابق شہر میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف مسرور بیس میں 62.5 ملی میٹر، ناظم آباد صدر اور کیماڑی میں 40 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ لانڈھی اور فیصل بیس میں 37 ملی میٹر، سرجانی میں 32 ملی میٹر، اولڈ ائیرپورٹ میں 30 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ جناح ٹرمینل میں 24.4، یونیورسٹی روڈ میں 19 ملی میٹر، اور نارتھ کراچی میں 17.3 ملی میٹر، ریکارڈ کی گئی۔

ادھر دوسری جانب کراچی میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے اور دیگر واقعات میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

سٹی کورٹ کے قریب کرنٹ لگنے سے 20 سالہ جواد، سول اسپتال کے قریب بجلی کے پول سے کرنٹ لگنے سے 8 سالہ انس جاں بحق ہوگیا، جبکہ سرجانی ندی میں ایک بچہ ڈوب کر جان کی بازی ہارگیا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More