اکشے کمار کی ’رکھشا بندھن‘ پچھلی فلم ’بچن پانڈے‘ سے کتنی مختلف؟

اردو نیوز  |  Aug 12, 2022

بالی وڈ اداکار اکشے کمار کی نئی فلم ’رکھشا بندھن‘ حال ہی میں ان کی ریلیز ہونے والی فلموں ’سمراٹ پرتھوی راج‘ اور  ’بچن پانڈے‘ سے قطعی مختلف ہے، جن کو فلم بینوں نے زیادہ پسند نہیں کیا تھا اس کی وجہ جو بھی ہو، رکھشا بندھن کے پاس کچھ ایسی وجوہات ہیں جو اس کو پسندیدگی کی طرف لے جاتی ہیں۔

ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والے ریویو میں بتایا گیا ہے کہ اس فلم میں بہن بھائی کے رشتے اور محبتوں کے درمیان جہیز جیسے اہم معاملے پر خوبصورتی سے بات کی گئی ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اکشے کمار کسی ایسی فلم کا حصہ ہیں جس میں ایک مضبوط سماجی پیغام دیا گیا ہے، اس سے قبل وہ پیڈمین اور ٹائلٹ جیسی فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں۔

رکھشا بندھن کی کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جس کی چار بہنیں ہیں۔

فلم میں دہلی کے چاندنی چوک کے مناظر میں ایک ایسے شخص لالہ کیدرناتھ کا تعارف کرایا جاتا ہے جو ایک گول گپوں کی خاندانی دکان چلاتا ہے اور اسے یہ فکر ہے کہ وہ اپنی چار بہنوں کی اچھے خاندانوں میں شادی کروائے کیونکہ یہی وعدہ اس نے بستر مرگ پر اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

ان کی بہنوں میں بڑی گیاتری سمجھدار لڑکی ہے، دوسرے نمبر پر درگا قدرے موٹاپے کا شکار ہیں، تیسرے نمبر پر لکشمی کی رنگت سانولی ہے جبکہ سب سے چھوٹی سرسوتی لڑکا نما لڑکی ہے جو سنی دیول کی فین ہے، اور گھاتک، گھائل اور ضدی جیسی فلمیں دیکھ کر جوان ہوئی ہے۔

دوسری جانب اکشے کمار کی بچپن سے محبوبہ ان سے شادی کا بے چینی کا انتظار کر رہی ہے کہ کب وہ بہنوں کی فکر سے نکلیں اور ان سے شادی کریں۔

اکشے کمار کیسے ماں کے ساتھ کیا وعدہ پورا کرتے ہیں اور اس کی راہ میں کن مشکلات کا سامنا رہتا ہے اس دوران ان کی اپنی محبت کا کیا بنتا ہے یہ سب کچھ رکھشا بندھن میں بہت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔

ویسے تو فلم کا موضوع بہت سنجیدہ اور دکھی کر دینے والا ہے تاہم اس میں مزاح کی بھی کمی نہیں پہلا ہاف اس سے بھرپور ہے، جن میں بھائی سے بہنوں کی چھیڑچھاڑ نمایاں ہے۔

دوسرے ہاف میں سنجیدگی ابھرتی ہے جو بڑھتی جاتی ہے جو دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر جاتی ہے۔

اس فلم میں اکشے کمار کے علاوہ بھومی پیڈنکر، سعدیہ خطیب، دیپکا کھنہ، سمریتی سریکانت اور ساہجمین کور نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں جبکہ فلم کے ہدایت کار آنند راج ہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More