Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی کوئی فیصلہ تو سنا دے اے قاضی
اسیری میں جینا ہے توہین میری مجھے دار پر تو چڑھا دے اے قاضی
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں

نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا
یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں

ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم
کہہ سکے جو دل کی حالت وہ لب گویا نہیں

جرم آدم نے کیا اور نسل آدم کو سزا
کاٹتا ہوں زندگی بھر میں نے جو بویا نہیں

جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیرؔ
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
Aaj dekha hai tujh ko dair ke bad
Aaj dekha hai tujh ko dair ke bad,
Aaj ka din guzar na jaae kahin.
اپنے دل سے جدا نہیں کرتے
اپنے دل سے جدا نہیں کرتے ھم کسی کو خفا نہیں کرتے
رازداری بہت ضروری ھے سب سے سب کچھ کہا نہیں کرتے
Khud se pehle khushi hai sub ki ehem
Khud se pehle khushi hai sub ki ehem
Us sae ne humen khushion ka matlb bhi sikhlaya hai
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
اِس قَدَر فاصلے وہ بڑھانے لگے
اِس قَدَر فاصلے وہ بڑھانے لگے
ہم سے اب رنجشیں بھی مٹانے لگے
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
قرار دل کو سدا جس کے نام سے آیا
وہ آیا بھی تو کسی اور کام سے آیا

کسی نے پوچھا نہیں لوٹتے ہوئے مجھ سے
میں آج کیسے بھلا گھر میں شام سے آیا

ہم ایسے بے ہنروں میں ہے جو سلیقۂ زیست
ترے دیار میں پل بھر قیام سے آیا

جو آسماں کی بلندی کو چھونے والا تھا
وہی منارہ زمیں پر دھڑام سے آیا

میں خالی ہاتھ ہی جا پہنچا اس کی محفل میں
مرا رقیب بڑے انتظام سے آیا
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا
چھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے

سی لیے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
Creator of all, Allah is His name
Creator of all, Allah is His name
With love and compassion, He guides us to fame
تم ہو میرے لیے پیچیدہ سوالوں کی طرح
تم ہو میرے لیے پیچیدہ سوالوں کی طرح
کاش آ جاؤ نظر دن کے اجالوں کی طرح
Lagta Nahi Hai Dil Mera Ab Kitaab Mein
Lagta Nahi Hai Dil Mera Ab Kitaab Mein
Kese Yaad Karun Yeh Asbaaq Mein
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
حسین چہرے کی تابندگی مبارک ہو
تجھے یہ سالگرہ کی خوشی مبارک ہو
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ
قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیا
قرب جاناں کا نہ مے خانے کا موسم آیا
پھر سے بے صرفہ اجڑ جانے کا موسم آیا

کنج غربت میں کبھی گوشۂ زنداں میں تھے ہم
جان جاں جب بھی ترے آنے کا موسم آیا

اب لہو رونے کی خواہش نہ لہو ہونے کی
دل زندہ ترے مر جانے کا موسم آیا

کوچۂ یار سے ہر فصل میں گزرے ہیں مگر
شاید اب جاں سے گزر جانے کا موسم آیا

کوئی زنجیر کوئی حرف خرد لے آیا
فصل گل آئی کہ دیوانے کا موسم آیا

سیل خوں شہر کی گلیوں میں در آیا ہے فرازؔ
اور تو خوش ہے کہ گھر جانے کا موسم آیا
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Barishon Main Chalny Sy Ik Bat Yad Ati Hai
Phisalny K Khof Sy Wo Hath Tham Leta Tha
جو بے نماز کبھي پڑھتے ہيں نماز اقبال
جو بے نماز کبھي پڑھتے ہيں نماز اقبال
بلا کے دير سے مجھ کو امام کرتے ہيں
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

یہ ہنستا ہوا چاند یہ پر نور ستارے
تابندہ و پایندہ ہیں ذروں کے سہارے

حسرت ہے کوئی غنچہ ہمیں پیار سے دیکھے
ارماں ہے کوئی پھول ہمیں دل سے پکارے

ہر صبح مری صبح پہ روتی رہی شبنم
ہر رات مری رات پہ ہنستے رہے تارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.