Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے
کچھ بھنور ڈوب گئے پانی میں چکراتے ہوئے

ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا
چھینا جھپٹی میں افق کھلتا گیا جاتے ہوئے

میں نہ ہوں گا تو خزاں کیسے کٹے گی تیری
شوخ پتے نے کہا شاخ سے مرجھاتے ہوئے

حسرتیں اپنی بلکتیں نہ یتیموں کی طرح
ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے

سی لیے ہونٹ وہ پاکیزہ نگاہیں سن کر
میلی ہو جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے
ہنسی آتی ہے
ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر
گناھ کرتا ھے خود ، لعنت بھیجتا ھے شیطان پر
تو دل شکن ہے پر یارو
تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
Wo Bar Bar Es Leye Yaad Atay Hein
Wo Bar Bar Es Leye Yaad Atay Hein
Unhein Hum Kabhi Bhla Ju Na Paye
ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
مجھ کو نہیں معلوم
مجھ کو نہیں معلوم حقیقی عشق کا
انجان بے خبر ہوں اور دیکھا نہ کر مجھے
جو بے نماز کبھي پڑھتے ہيں نماز اقبال
جو بے نماز کبھي پڑھتے ہيں نماز اقبال
بلا کے دير سے مجھ کو امام کرتے ہيں
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Ik Mele Mai Pohncha Hmakta Hoa
Ji Machlata Tha Ik Ik Shay Par Mgar
Jeeb Khai Thi Kuch Mol Le Na Saka
Lot Aya Liye Hasratain Sainkron
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Khair Mehromaio Ke Wo Din Tu Gaye
Aaj Mela Lga Hai Usi Shan Se
Aaj Chahon Tu Ik Ik Dukan Mol Lon
Na Rasai Ka Ab Ji Mai Dharka Kahan
Par Wo Chota Sa, Alhar Sa Larka Kahan
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں
Indeed do I suffer agnoy When Palestine is bombed
Indeed do I suffer agnoy, When Palestine is bombed
Indeed am I wounded, When Kashmir is shelled
My Lord Let not my heart be diseased
My Lord Let not my heart be diseased
I sin And my heart pains
Shikwa
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم
پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم

شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیم
بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم

ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر

خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا
قوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھی
اہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے
سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے

قوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خبیر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے

توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو

کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی

کس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھے

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفت جام پھرے

کوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں

امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں

ان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیں
سیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

بت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں

یہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب

تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حباب
رہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سراب

طعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے

بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا

ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے

دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

درد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہی

عشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہی
امت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہی

پھر یہ آزردگی غیر سبب کیا معنی
اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنی

تجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑا
بت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑا

عشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا
رسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑا

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں

عشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی

مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نے

آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے

آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیں

وادی نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہا
قیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا

حوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہا
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہا

اے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے
سنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھے

دور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھے

اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے
برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجاز
لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے

مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے
مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دے

جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ ما
می تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما

بوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمن

عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمن
اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن

ایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں

وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں

قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میں
کچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میں

کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں

یعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوں
پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
Jab Bhi Is Zamany NY Dukh Diye Tum Yad ai Ho Maan
Jab Bhi Is Zamany NY Dukh Diye Tum Yad ai Ho Maa Jab Mujhy Thukraya Mere Apnu Nay Tab Tum Yad ai Ho Maa
Hakeekat Bante Hai Wo Lafz Jo Dard Mai Nikle
Hakeekat Bante Hai Wo Lafz Jo Dard Mai Nikle
Mat Sata Itna Ki Muh Se Sirf Bad_Dua He Nikle
Sada Hai Fikr e Taraqqi Buland Beenon Ko
Sadaa Hai Fikr-E-Taraqqi Buland-Beenon Ko
Hum Aasmaan Se Laaye Hain In Zameenon Ko

Padhen Durood Na Kyon Dekh Kar Haseenon Ko
Khyaal-E-Sanat-E-Saane Hai Paak-Beenon Ko

Kamaal-E-Faqr Bhi Shaayaan Hai Paak-Beenon Ko
Ye Khaak Takht Hai Hum Boriya-Nasheenon Ko

Lahad Mein Soye Hain Chhoda Hai Shah-Nasheenon Ko
Qazaa Kahan Se Kahan Le Gayi Makeenon Ko

Ye Jhurriyan Nahin Haathon Pe Zof-E-Peeri Ne
Chuna Hai Jaama-E-Asli Ki Aasteenon Ko

Laga Raha Hun Mazaamin-E-Nau Ke Phir Ambaar
Khabar Karo Mere Khirman Ke Khosha-Cheenon Ko

Bhala Taraddud-E-Beja Se Un Mein Kya Haasil
Utha Chuke Hain Zameendaar Jin Zameenon Ko

Unhin Ko Aaj Nahin Baithne Ki Jaa Milti
Muaf Karte The Jo Log Kal Zameenon Ko

Ye Zaairon Ko Mili Sarfaraaziyaan Warna
Kahan Naseeb Ki Chumen Malak-Jabeenon Ko

Sajaaya Hum Ne Mazaamin Ke Taaza Phoolon Se
Basa Diya Hai In Ujdi Hui Zameenon Ko

Lahad Bhi Dekhiye In Mein Naseeb Ho Ki Na Ho
Ki Khaak Chhaan Ke Paaya Hai Jin Zameenon Ko

Zawaal-E-Taaqat-O Mu-E-Saped-O-Zof-E-Basar
Inhin Se Paaye Bashar Maut Ke Qareenon Ko

Nahin Khabar Unhen Mitti Mein Apne Milne Ki
Zameen Mein Gaad Ke Baithe Hain Jo Dafeenon Ko

Khabar Nahin Unhen Kya Badobast-E-Pukhta Ki
Jo Ghasb Karne Lage Ghair Ki Zameenon Ko

Jahaan Se Uth Gaye Jo Log Phir Nahin Milte
Kahan Se Dhoond Ke Ab Laayen Hum-Nasheenon Ko

Nazar Mein Phirti Hai Woh Teergi-O Tanhaayi
Lahad Ki Khaak Hai Surma Maal-Baeenon Ko

Khyaal-E-Khaatir-E-Ahbaab Chahiye Har Dum
Anees’ Thes Na Lag Jaaye Aabgeenon Ko
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں
تو آ کے جا بھی چکا ہے میں انتظار میں ہوں

مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں
میں اپنے گھر میں ہوں یا میں کسی مزار میں ہوں

در فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا
میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں ہوں

بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب
رکا ہوا ہوں سفر میں کسی دیار میں ہوں

میں ہوں بھی اور نہیں بھی عجیب بات ہے یہ
یہ کیسا جبر ہے میں جس کے اختیار میں ہوں

منیرؔ دیکھ شجر چاند اور دیواریں
ہوا خزاں کی ہے سر پر شب بہار میں ہوں
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سے وگرنہ خوف بد آموزی عدو کیا ہے چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہمارے جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیز سوائے بادۂ گلفام مشک بو کیا ہے پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چار
یہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بھی
تو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

ہوا ہے شہہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
Gham Sabhi Rahat O Taskeen Mein Dhal Jaate Hain
Gham Sabhi Rahat O Taskeen Mein Dhal Jaate Hain
Jab Karam Hota Hai Haalat Badal Jaate Hain
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Dekhte Hain Aaj Humein Kaun Bimar Karta Hai

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.