Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Teri Aghos May Jannat Aur Jahan Dono Ka Sakoon Hai
Teri Aghos May Jannat Aur Jahan Dono Ka Sakoon Hai
Is Pathar Pr Sar Rakh Kr Muj Say Soya Nhi Jata Aye Maa
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی کوئی فیصلہ تو سنا دے اے قاضی
اسیری میں جینا ہے توہین میری مجھے دار پر تو چڑھا دے اے قاضی
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
ہجوم دیکھ کے رستہ نہیں بدلتے ہم
کسی کے ڈر سے تقاضا نہیں بدلتے ہم

ہزار زیر قدم راستہ ہو خاروں کا
جو چل پڑیں تو ارادہ نہیں بدلتے ہم

اسی لیے تو نہیں معتبر زمانے میں
کہ رنگ صورت دنیا نہیں بدلتے ہم

ہوا کو دیکھ کے جالبؔ مثال ہم عصراں
بجا یہ زعم ہمارا نہیں بدلتے ہم
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
Bachpan K Wo Din Thay Parhai Ka Wo Dour Tha
Bachpan K Wo Din Thay Parhai Ka Wo Dour Tha
School Mein Wo Milla Aise Jaisay Chand Ko Mila Chakor Tha
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
وہ لوگ میرے بہت پیار کرنے والے تھے
گزر گئے ہیں جو موسم گزرنے والے تھے

نئی رتوں میں دکھوں کے بھی سلسلے ہیں نئے
وہ زخم تازہ ہوئے ہیں جو بھرنے والے تھے

یہ کس مقام پہ سوجھی تجھے بچھڑنے کی
کہ اب تو جا کے کہیں دن سنورنے والے تھے

ہزار مجھ سے وہ پیمان وصل کرتا رہا
پر اس کے طور طریقے مکرنے والے تھے

تمہیں تو فخر تھا شیرازہ بندیٔ جاں پر
ہمارا کیا ہے کہ ہم تو بکھرنے والے تھے

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں
وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

اس ایک چھوٹے سے قصبے پہ ریل ٹھہری نہیں
وہاں بھی چند مسافر اترنے والے تھے
Lahoo Ka Hai Bikharna Saanson Ka Hai Theharna
Lahoo Ka Hai Bikharna. Saanson Ka Hai Theharna
Yahi To Maut Hai Jamal, To Fir Kaahe Ka Darna
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
تو دل شکن ہے پر یارو
تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
پہلے سے ہوں تنہا سا تنہا
پہلے سے ہوں تنہا سا تنہا جہان میں
ھے خدا کا واسطہ اور اکیلا نہ کر مجھے
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
ملا جو موقع تو روک دوں گا جلالؔ روز حساب تیرا
پڑھوں گا رحمت کا وہ قصیدہ کہ ہنس پڑے گا عتاب تیرا

یہی تو ہیں دو ستون محکم انہیں پہ قائم ہے نظم عالم
یہی تو ہے راز خلد و آدم نگاہ میری شباب تیرا

صبا تصدق ترے نفس پر چمن ترے پیرہن پہ قرباں
نسیم دوشیزگی میں کیسا بسا ہوا ہے شباب تیرا

تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیں
سمجھ سکا ایک بھی نہ لیکن سوال میرا جواب تیرا

ہزار شاخیں ادا سے لچکیں ہوا نہ تیرا سا لوچ پیدا
شفق نے کتنے ہی رنگ بدلے ملا نہ رنگ شباب تیرا

ادھر مرا دل تڑپ رہا ہے تری جوانی کی جستجو میں
ادھر مرے دل کی آرزو میں مچل رہا ہے شباب تیرا

کرے گی دونوں کا چاک پردہ رہے گا دونوں کو کر کے رسوا
یہ شورش ذوق دید میری یہ اہتمام حجاب تیرا

جڑیں پہاڑوں کی ٹوٹ جاتیں فلک تو کیا عرش کانپ اٹھتا
اگر میں دل پر نہ روک لیتا تمام زور شباب تیرا

بھلا ہوا جوشؔ نے ہٹایا نگاہ کا چشم تر سے پردہ
بلا سے جاتی رہیں گر آنکھیں کھلا تو بند نقاب تیرا
توحید
مردو کو زندہ جانتا ھے آزری نظام
وھاں کے بتکدے اور خانقاہ جات
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
MAA Ki Duaan Aisa Rang Laay
MAA Ki Duaan Aisa Rang Laay
K Hum Khuda K Har Azaab Se Bach Jay
Wo Jo Diary Mein Kuch Phool Parry Hain Ab Bhi
Wo Jo Diary Mein Kuch Phool Parry Hain Ab Bhi
Un Ki Khushboo Urra Jao Iss Baarish Say Pehly
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
گرمی سہی کلام میں مگر نا اتنی سہی
کی جس سے بات اسنے شکایت ضرور کی
Mana kay Hum Adab Say Bat Nahi Krty
Mana kay Hum Adab Say Bat Nahi Krty
Par Yeh Manoo Kay Matlab Se Baat Nahi Krty
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوز غم ہائے نہانی اور ہے بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے

قاطع اعمار ہے اکثر نجوم
وہ بلائے آسمانی اور ہے

ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
Nahi Dikha Ajj Shab Asman Main Sitara Kahin Par
Nahi Dikha Ajj Shab Asman Main Sitara Kahin Par
Kar Baithy Hain Woh Ajj Kesi Ka Nazra Kahin Par

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.