Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
حلال چيز کو گويا حرام کرتے ہيں
زندگی اپنی جب
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
رٙنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
رٙنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
اِتنا میں چُپ ہُوا کہ تماشہ نہیں ہُوا

ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہمسفر نہیں
رستہ ہے اس طرح کا کہ دیکھا نہیں ہُوا

مشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں ،یہ اپنا نہیں ہُوا

وہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہُوا
جو کام بھی ہُوا ،یہاں اچھا نہیں ہُوا

ملنا تھا ایک بار اُسے پھر کہیں منیر
ایسا میں چاہتا تھا ،پر ایسا نہیں ہُوا
شراب
کیوں ڈھونڈتا پھرتا ہے پینے کو تو شراب
حرام شے ہے یہ اِسکی کوئی جگہ ہی نہیں
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
December Jab Bhai Ata Hai Yehe Anjaam Hota Ha
Kabhi Khansi, Kabhi Nazla, Kabi Zukhaam Hota Ha
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا

زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

صیاد اسیر دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

ہوتا ہے زرد سن کے جو نامرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا

ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے تو اڑے گا نشانہ کیا

صیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا

بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں سرائے جسم کا ہوگا روانہ کیا

یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا
Ibtida Se Hum Zaif o Natawan Paida Hue
Ibtida Se Hum Zaif-O-Natawaan Paida Hue
Ud Gaya Jab Rang Rukh Se Ustukhwaan Paida Hue

Khaaksaari Ne Dikhaayi Rifaton Par Rifaten
Iss Zameen Se Waah Kya Kya Aasmaan Paida Hue

Ilm Khaaliq Ka Khazaana Hai Miyaan-E-Kaaf-O-Nun
Ek Kun Kahne Se Ye Kaun-O-Makaan Paida Hue

Zabt Dekho Sab Ki Sun Li Aur Kuchh Apni Kahi
Iss Zabaan-Daani Par Aise Bezabaan Paida Hue

Shor-Bakhti Aayi Hisse Mein Unhin Ke Wa Naseeb
Talkh-Kaami Ke Liye Sheerin-Zabaan Paida Hue

Ehtiyaat-E-Jism Kya Anjaam Ko Socho ‘Anees
Khaak Hone Ko Ye Musht-E-Ustukhwaan Paida Hue
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر
کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا
Chup chaap khamoshi sa wo saya
Chup chaap khamoshi sa wo saya Jis ne ghamon ka dher aksar has k bitaya hai
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی
رہا کر مجھے یا سزا دے اے قاضی کوئی فیصلہ تو سنا دے اے قاضی
اسیری میں جینا ہے توہین میری مجھے دار پر تو چڑھا دے اے قاضی
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں
مریدان پیر مغاں کیسے کیسے

عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن
لٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے

تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں
جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کئے ناتواں کیسے کیسے

دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے
تمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
اک بار پھر وطن میں گیا جا کے آ گیا
لخت جگر کو خاک میں دفنا کے آ گیا

ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکا ہوا مجھے
آب بقا کی راہ سے کترا کے آ گیا

حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور میں
اپنا سا منہ لیے ہوئے شرما کے آ گیا

دل لے گیا مجھے تری تربت پہ بار بار
آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا

رویا کہ تھا جہیز ترا واجب الادا
مینہ موتیوں کا قبر پہ برسا کے آ گیا

میری بساط کیا تھی حضور رضائے دوست
تنکا سا ایک سامنے دریا کے آ گیا

اب کے بھی راس آئی نہ حب وطن حفیظؔ
اب کے بھی ایک تیر قضا کھا کے آ گیا
Every one of your birthdays is a gift to the rest of us
Every one of your birthdays is a gift to the rest of us
who have had the pleasure of having you in our lives
Ay Watan Tera Ya Hi Almya raha
Ay Watan Tera Ya Hi Almya RHA
Wajood Raha Tera Mgr Tu Na Rha
Ajaoo Is December Mai Dori Sahii Nahi Jati
Ajaoo Is December Mai Dori Sahii Nahi Jati
Wo Tumhara Piyar Or Pakory Bohat Yad Aaty Hain
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
آپ کا ساتھ میرے سَر کا تاج ہو جائے
Jab Ishq Ke Arman Jal Jata Han
Jab Ishq Ke Arman Jal Jata Han
Na Jane Kiun Log Badal Jaten Han
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
اور اب یہ کہتا ہوں یہ جرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا

خیال صبحوں کرن ساحلوں کی اوٹ سدا
میں موتیوں جڑی بنسی کی لے جگا رکھتا

جب آسماں پہ خداؤں کے لفظ ٹکراتے
میں اپنی سوچ کی بے حرف لو جلا رکھتا

ہوا کے سایوں میں ہجر اور ہجرتوں کے وہ خواب
میں اپنے دل میں وہ سب منزلیں سجا رکھتا

انہیں حدوں تک ابھرتی یہ لہر جس میں ہوں میں
اگر میں سب یہ سمندر بھی وقت کا رکھتا

پلٹ پڑا ہوں شعاعوں کے چیتھڑے اوڑھے
نشیب زینۂ ایام پر عصا رکھتا

یہ کون ہے جو مری زندگی میں آ آ کر
ہے مجھ میں کھوئے مرے جی کو ڈھونڈتا رکھتا

غموں کے سبز تبسم سے کنج مہکے ہیں
سمے کے سم کے ثمر ہیں میں اور کیا رکھتا

کسی خیال میں ہوں یا کسی خلا میں ہوں
کہاں ہوں کوئی جہاں تو مرا پتا رکھتا

جو شکوہ اب ہے یہی ابتدا میں تھا امجدؔ
کریم تھا مری کوشش میں انتہا رکھتا
چمن زار محبت میں خموشی موت ہے بلبل
چمن زار محبت میں خموشی موت ہے بلبل
یہاں کی زندگی پابندئ رسم فغاں تک ہے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.