Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
Another year has passed, A birthday for you is in store
Another year has passed, A birthday for you is in store
May you find this coming year, Be one with lots of open doors.
Din Tu Aam Bhi Kat'ta Nahi Teray Bin
Din Tu Aam Bhi Kat'ta Nahi Teray Bin
Issay Tu Phir Log Kehtay Hain Eid Ka Din
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر
میری خاطر نہ سہی اپنی انا کی خاطر
اپنے بندوں سے تو پندار خدائی لے لے
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
غرض نشاط ہے شغل شراب سے جن کي
حلال چيز کو گويا حرام کرتے ہيں
I wish you million smiles, I wish you laughter
I wish you million smiles, I wish you laughter
I wish you million more moments to remember your birthday for.
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
اقبال کا عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اب تیرا بھی دور آنے کو ہے اے فقرِ غیّور
کھا گئی روحِ فرنگی کو ہوائے سیم و زر
قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے
قدم انساں کا راہ دہر میں تھرا ہی جاتا ہے
چلے کتنا ہی کوئی بچ کے ٹھوکر کھا ہی جاتا ہے

نظر ہو خواہ کتنی ہی حقائق آشنا پھر بھی
ہجوم کشمکش میں آدمی گھبرا ہی جاتا ہے

خلاف مصلحت میں بھی سمجھتا ہوں مگر ناصح
وہ آتے ہیں تو چہرے پر تغیر آ ہی جاتا ہے

ہوائیں زور کتنا ہی لگائیں آندھیاں بن کر
مگر جو گھر کے آتا ہے وہ بادل چھا ہی جاتا ہے

شکایت کیوں اسے کہتے ہو یہ فطرت ہے انساں کی
مصیبت میں خیال عیش رفتہ آ ہی جاتا ہے

شگوفوں پر بھی آتی ہیں بلائیں یوں تو کہنے کو
مگر جو پھول بن جاتا ہے وہ کمھلا ہی جاتا ہے

سمجھتی ہیں مآل گل مگر کیا زور فطرت ہے
سحر ہوتے ہی کلیوں کو تبسم آ ہی جاتا ہے
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
تیرے قریب آکے بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ ترے دوستوں میں ہوں
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Dekhte Hain Aaj Humein Kaun Bimar Karta Hai
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
Teri Nazroon Ka Wusal Itna Bhi Asaan Nhi
Teri Nazroon Ka Wusal Itna Bhi Asaan Nhi
Honi K Hony Ka Taqdeer Ko Bhi Imkan Nhi
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
Mere Rab Ki Mujh Par Inayat Hui Kahu Bhi To Kese Ibadat Hui
Mere Rab Ki Mujh Par Inayat Hui Kahu Bhi To Kese Ibadat Hui
Haqeqat Hui Jese Mujh Par Iyaan Qalam Ban Gaya Hai Khuda Ki Zubaa
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں
مریدان پیر مغاں کیسے کیسے

عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تن
لٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے

تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیں
جدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

بہار گلستاں کی ہے آمد آمد
خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

توجہ نے تیری ہمارے مسیحا
توانا کئے ناتواں کیسے کیسے

دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہے
تمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے
تُجھ سے ملنے کی تمنا بھی ہے ایک طرف
تُجھ سے ملنے کی تمنا بھی ہے ایک طرف
اور آنے جانے میں کرایہ بھی بہت لگتا ہے
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا

حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
خدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا

ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا

یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہی
دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا

یہ دل شہید فریب نگاہ ہو نہ سکا
وہ لاکھ ہم سے بہ انداز محرمانہ ملا

کنار موج میں مرنا تو ہم کو آتا ہے
نشان ساحل الفت ملا ملا نہ ملا

تری تلاش ہی تھی مایۂ بقائے وجود
بلا سے ہم کو سر منزل بقا نہ ملا
مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
مسکرا کر چلو کھلکھلا کر چلو
دل کسی کا مگر نہ دکھا کر چلو

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.