Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Politics is the best weapon
Politics is the best weapon
To play with mind of others
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا یہ پیمان اپنا نبھانے چلا ہوں
اسے صرف اپنا بنا کر میں جہاں بھر سے جھگڑا مٹانے چلا ہوں
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka
Mat Kar Nahin Nahin Ye Wakat Ni Nahin Ka,
Tery Is Nahin Nahin Ne Ham Ko Chora Ni Kahin Ka
Ik Eid Py Taira Bicharh Jana
Ik Eid Py Taira Bicharh Jana
Maire Har Eid Odas Krta Hy
Waqt ke samandar ko tair kar jana hai
Waqt ke samandar ko tair kar jana hai,
Fir ek din kanaaron pe aakar doob jana hai...
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے
یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے

خواب کی تعبیر پر اصرار ہے جن کو ابھی
پہلے ان کو خواب سے بیدار ہونا چاہئے

ڈوب کر مرنا بھی اسلوب محبت ہو تو ہو
وہ جو دریا ہے تو اس کو پار ہونا چاہئے

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

بات پوری ہے ادھوری چاہئے اے جان جاں
کام آساں ہے اسے دشوار ہونا چاہئے

دوستی کے نام پر کیجے نہ کیونکر دشمنی
کچھ نہ کچھ آخر طریق کار ہونا چاہئے

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئے
Ajaoo Is December Mai Dori Sahii Nahi Jati
Ajaoo Is December Mai Dori Sahii Nahi Jati
Wo Tumhara Piyar Or Pakory Bohat Yad Aaty Hain
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
توحید
مردو کو زندہ جانتا ھے آزری نظام
وھاں کے بتکدے اور خانقاہ جات
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
آ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
طاقت بیداد انتظار نہیں ہے

دیتے ہیں جنت حیات دہر کے بدلے
نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو
ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

ہم سے عبث ہے گمان رنجش خاطر
خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے

دل سے اٹھا لطف جلوہ ہائے معانی
غیر گل آئینۂ بہار نہیں ہے

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے
وائے اگر عہد استوار نہیں ہے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔ
تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
سلطانیٔ جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Yaad Mehboob Ki Aur Sardi Urooj Ki,
Dekhte Hain Aaj Humein Kaun Bimar Karta Hai
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں
دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر
میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرا
میں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاں
میں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
لو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
Mujhey Shidat Se Nafrat Hai Wafa Ke Lafzon Se.
Mujhey Shidat Se Nafrat Hai Wafa Ke Lafzon Se
Yeh Karamat Ki Barsaat Ya Rab Kisi Pe Na Barsey
کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں
کھلی کتاب کے صفحے الٹتے رہتے ہیں
ہوا چلے نہ چلے دن پلٹتے رہتے ہیں

بس ایک وحشت منزل ہے اور کچھ بھی نہیں
کہ چند سیڑھیاں چڑھتے اترتے رہتے ہیں

مجھے تو روز کسوٹی پہ درد کستا ہے
کہ جاں سے جسم کے بخیے ادھڑتے رہتے ہیں

کبھی رکا نہیں کوئی مقام صحرا میں
کہ ٹیلے پاؤں تلے سے سرکتے رہتے ہیں

یہ روٹیاں ہیں یہ سکے ہیں اور دائرے ہیں
یہ ایک دوجے کو دن بھر پکڑتے رہتے ہیں

بھرے ہیں رات کے ریزے کچھ ایسے آنکھوں میں
اجالا ہو تو ہم آنکھیں جھپکتے رہتے ہیں
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Ishq Ne Galib Nakama Kar Diya
Varna Pehle Hum Bhi Dahi Le Aate The
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا
طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.