Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Ik Mele Mai Pohncha Hmakta Hoa
Ji Machlata Tha Ik Ik Shay Par Mgar
Jeeb Khai Thi Kuch Mol Le Na Saka
Lot Aya Liye Hasratain Sainkron
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Khair Mehromaio Ke Wo Din Tu Gaye
Aaj Mela Lga Hai Usi Shan Se
Aaj Chahon Tu Ik Ik Dukan Mol Lon
Na Rasai Ka Ab Ji Mai Dharka Kahan
Par Wo Chota Sa, Alhar Sa Larka Kahan
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
نہ تو زمین کے لیے ہے نہ تو آسمان کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
اپنے دامانِ محبت میں جگہ دے دیجئے
آپ کا ساتھ میرے سَر کا تاج ہو جائے
"Us" Ny Mujh Se Pucha
"Us" Ny Mujh Se Pucha: "Kiya Tum Ab Bhi Mujh Se Piyar Kerty Ho.?"
Me Ny Kaha: "Piyar Ka To Pata Nahi Magar Log Aaj Bhi Mujhy Teri Hi Qasam Dete Hen
Ay Watan Tera Ya Hi Almya raha
Ay Watan Tera Ya Hi Almya RHA
Wajood Raha Tera Mgr Tu Na Rha
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے

پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ
کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے

ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے
سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے

لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم
طلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے

ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا
تمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے

جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم
اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے

بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم
ستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے

یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار
یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے

سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی
غم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے

وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی
دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے

نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ
برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر
کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا
پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
خوشبو کی زباں میں بول کبھی

الفاظ پرکھتا رہتا ہے
آواز ہماری تول کبھی

انمول نہیں لیکن پھر بھی
پوچھ تو مفت کا مول کبھی

کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں
کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی

یہ دل بھی دوست زمیں کی طرح
ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی
Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Apni Baton Mn Mere Naam Ke Hawle Likhna Ay Dost
Mn Tujse Door Hn Khud Ko Sanbhale Rkhna
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Qaafley Se Bhrosa Uthana Para
Apna Rasta Mujhe Khud Banana Para
سچ ہے کہ ہم سے بات بھی کرنا نماز ہے
سچ ہے کہ ہم سے بات بھی کرنا نماز ہے
گر ہو سکے تو اس کو قضا مت کیا کرو
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
دنیا میں عبادت کو تری آئے ہوئے ہیں
پر حسن بتاں دیکھ کے گھبرائے ہوئے ہیں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

مدد کرنی ہو اس کی یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ اس کو جا کے یہ بتانا ہو
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
چشم بے آب کی دہلیز پہ دریا چمکا

فصل گل آئی کھلے باغ میں خوشبو کے علم
دل کے ساحل پہ ترے نام کا تارا چمکا

عکس بے نقش ہوئے آئنے دھندلانے لگے
درد کا چاند سر بام تمنا چمکا

رنگ آزاد ہوئے گل کی گرہ کھلتے ہی
ایک لمحے میں عجب باغ کا چہرا چمکا

پیرہن میں بھی ترا حسن نہ تھا حشر سے کم
جب کھلے بند قبا اور ہی نقشہ چمکا

دل کی دیوار پہ اڑتے رہے ملبوس کے رنگ
دیر تک ان میں تری یاد کا سایا چمکا

روح کی آنکھ چکا چوند ہوئی جاتی ہے
کس کی آہٹ کا مرے کان میں نغمہ چمکا

لہریں اٹھ اٹھ کے مگر اس کا بدن چومتی تھیں
وہ جو پانی میں گیا خوب ہی دریا چمکا

ہجر پنپا نہ ترا وصل ہمیں راس آیا
کسی میدان میں تارا نہ ہمارا چمکا

جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔ
آنکھ جب خشک ہوئی اور وہ چہرا چمکا
Abhi se baat nahi kar rahe ho
Abhi se baat nahi kar rahe ho
abhi se naraz ho rahe ho
دلوں سے خوف خالق کا گیا
دلوں سے خوف خالق کا گیا تو زلزلے آئے زمیں پر بوجھ پاپوں کا بڑھا تو زلزلے آئے
خدا نے جن کے ماتھوں پر لگائی مہر سارِق کی رِعایا نے اُنْھیں حاکم چنا تو زلزلے آئے

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.