Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی
بحث کیوں ہے کافر و دیں دار کی
سب ہے قدرت داور دوار کی
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو
Kaash Tu Meri Aankhon Ka Aansu Ban Jaye
Kaash Tu Meri Aankhon Ka Aansu Ban Jaye,
Main Rona Chor Dun Tujhe Khone Ke Darr Se
جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
جمع ہم نے کیا ہے غم دل میں
اس کا اب سود کھائے جائیں گے
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا
Phir Palat Rahi Hai Sardiyon Ki Suhani Raat
Phir Palat Rahi Hai Sardiyon Ki Suhani Raat
Phir Us Ki Yad Me Jalne Ka Zamana Aya...
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

مدت ہوئی ہے کوئے بتاں کی طرف گئے
آوارگی سے دل کو کہاں تک بچائیں ہم

شاید بہ قید زیست یہ ساعت نہ آ سکے
تم داستان شوق سنو اور سنائیں ہم

بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستوں میں کہیں کھو نہ جائیں ہم

اس کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالبؔ چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
جہاں دیکھو عشق کے بیمار بیٹھے ہیں
ہزاروں مر کر بھی لاکھوں تیار بیٹھے ہیں
Kash tumhare chehre pe chicken pox ke daag hote
Kash tumhare chehre pe chicken pox ke daag hote
Chand to tum ho hi, sitaray bhi saath hote!!
Hum ne uske aagy haar jana hay
Hum ne uske aagy haar jana hay
Hum ne roothe yaar ko manana hay
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
تم ہتھیلی کو مرے پیار کی مہندی سے رنگو
اپنی آنکھوں میں مرے نام کا کاجل کر دو
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا

حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
خدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا

ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا

یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہی
دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا

یہ دل شہید فریب نگاہ ہو نہ سکا
وہ لاکھ ہم سے بہ انداز محرمانہ ملا

کنار موج میں مرنا تو ہم کو آتا ہے
نشان ساحل الفت ملا ملا نہ ملا

تری تلاش ہی تھی مایۂ بقائے وجود
بلا سے ہم کو سر منزل بقا نہ ملا
Log Ishq Kartay Hain Baray Shor Kay Sath Humne Bhi Kia Bare Zor Kay Sath
Log Ishq Kartay Hain Baray Shor Kay Sath Humne Bhi Kia Bare Zor Kay Sath
Lakin Ab Karain Gay Thoray Ghor Kay Sath Kyunke Kal Usay Dekha Kisi Aur Kay Sath
کر دیا ہے خاک سے پہلے ہی خاک موجودہ نظام نے
کر دیا ہے خاک سے پہلے ہی خاک موجودہ نظام نے
شیطان بھی ٹوٹ گیا ہے ہماری حالت دیکھ کر
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
خوشیوں بھرا ہر سال تمہارا ہو یہ آج یہ کل تمہارا ہو
کریں جو چاند ستارے گفتگو تو باتوں میں بھی انکی
صحرا کو بڑا عالم ھے اپنی تنہائی پر غالب
صحرا کو بڑا عالم ھے اپنی تنہائی پر غالب
اس نے دیکھا نہں عالم میری تنہائی کا
Naseeb Azmaney Ke Din Aarahe Hain
Naseeb Azmaney Ke Din Aarahe Hain
Kareeb Aney Ke Din Arahe Hain
خواب
دیکھتا ہوں اُسے تھی جس کی تمنا مجھ کو
آج بیداری میں ہے خواب ذلیخا کامجھے پھر
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کب ضیا بار ترا چہرۂ زیبا ہوگا
کیا جب آنکھیں نہ رہیں گی تو اجالا ہوگا

مشغلہ اس نے عجب سونپ دیا ہے یارو
عمر بھر سوچتے رہیے کہ وہ کیسا ہوگا

جانے کس رنگ سے روٹھے گی طبیعت اس کی
جانے کس ڈھنگ سے اب اس کو منانا ہوگا

اس طرف شہر ادھر ڈوب رہا تھا سورج
کون سیلاب کے منظر پہ نہ رویا ہوگا

یہی انداز تجارت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہوگا

دیکھنا حال ذرا ریت کی دیواروں کا
جب چلی تیز ہوا ایک تماشا ہوگا

آستینوں کی چمک نے ہمیں مارا انورؔ
ہم تو خنجر کو بھی سمجھے ید بیضا ہوگا
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے
بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا

اڑتا ہے شوق راحت منزل سے اسپ عمر
مہمیز کہتے ہیں گے کسے تازیانہ کیا

زینہ صبا کا ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک
بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

صیاد اسیر دام رگ گل ہے عندلیب
دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے دام و دانہ کیا

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

ہوتا ہے زرد سن کے جو نامرد مدعی
رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا

ترچھی نگہ سے طائر دل ہو چکا شکار
جب تیر کج پڑے تو اڑے گا نشانہ کیا

صیاد گل عذار دکھاتا ہے سیر باغ
بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا

بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں
مہماں سرائے جسم کا ہوگا روانہ کیا

یوں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.