Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

Toot Na Jae Tujhe Per Mere Piyar Ki Shidaat
Toot Na Jae Tujhe Per Mere Piyar Ki Shidaat
Tu Sumandar Ki Tarhan Khamoosh Na Raha Kar
ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
ہمیں بھی عرض تمنا کا ڈھب نہیں آتا
مزاج یار بھی سادہ ہے کیا کیا جائے
Kahan Aa k Rukne Thy Rastay Kahan Morr Tha Usay Bhool Ja
Kahan aa k ruknay they rastay, kahan morr tha usay bhool ja
wo jo mil gaya usay yad rakh jo nahi mila usay bhool ja

wo tere naseeb ki barishein ksi aur chat pe baras gayein
dil-e-bekhabar meri baat sunn usay bhool ja usay bhool ja

mein to gum tha tere he dheyan mein, teri aas, tere gumaan mein
saba keh gai mere kaan mein mere saath aa usay bhool ja

ksi ankh mein nahi ashk-e-gham, tere baad kuch bhi nahi hai kam
tujhe zindagi ne bhula dia tu bhi muskura usay bhool ja

kyun attaa hua hai ghubaar mein, gham-e-zindagi k fishaar mein
wo jo darj tha tere bakht mein, so wo ho gaya usay bhool ja

na wo ankh he teri ankh thi, na wo khawb he tera khawb tha
dil-e-mutazir tou ye kis liay,tera jaagna, usay bhool ja

ye jo raat din ka hai khel sa, isay dekh, is pe yaqeen na ker
nahi aks koi b mustaqil, sir-e-aaina usay bhool ja

jo bisaat-e-jaan he ulat gaya, wo jo rastay mein palat gaya
usy roknay se hasool kya, usay mat bula, usay bhool ja
Phool khilte rahein zindgi ki raah mein
Phool khilte rahein zindgi ki raah mein, hassi chamakti rahe aapki nigaah mein
Kadam kadam par mile khushi ki bahar aapko, Dil deta hai yehi dua baar-baar aapko.
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے اک کھیل ہے اورنگ سلیماں مرے نزدیک اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے جز نام نہیں صورت عالم مجھے منظور جز وہم نہیں ہستیٔ اشیا مرے آگے ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے گھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا ترے پیچھے تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے سچ کہتے ہو خودبین و خود آرا ہوں نہ کیوں ہوں بیٹھا ہے بت آئنہ سیما مرے آگے پھر دیکھیے انداز گل افشانیٔ گفتار رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے نفرت کا گماں گزرے ہے میں رشک سے گزرا کیوں کر کہوں لو نام نہ ان کا مرے آگے ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے ہے موجزن اک قلزم خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے
Ho Agar Beemar To Pehle Dawa Lelijiye
Ho Agar Beemar To Pehle Dawa Lelijiye
Phir Shifa Miljaye Gi Maa Ka Pata Lelijiye
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
Lahoo Ka Hai Bikharna Saanson Ka Hai Theharna
Lahoo Ka Hai Bikharna. Saanson Ka Hai Theharna
Yahi To Maut Hai Jamal, To Fir Kaahe Ka Darna
Tujh Ko Nikaal Kar Dekha Hai
Tujh Ko Nikaal Kar Dekha Hai,
Mere Andar Kuch Nahi Bachta
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
تو آشنائے جذبۂ الفت نہیں رہا
دل میں ترے وہ ذوق محبت نہیں رہا

پھر نغمہ ہائے قم تو فضا میں ہیں گونجتے
تو ہی حریف ذوق سماعت نہیں رہا

آئیں کہاں سے آنکھ میں آتش چکانیاں
دل آشنائے سوز محبت نہیں رہا

گل ہائے حسن یار میں دامن کش نظر
میں اب حریص گلشن جنت نہیں رہا

شاید جنوں ہے مائل فرزانگی مرا
میں وہ نہیں وہ عالم وحشت نہیں رہا

ممنون ہوں میں تیرا بہت مرگ ناگہاں
میں اب اسیر گردش قسمت نہیں رہا

جلوہ گہہ خیال میں وہ آ گئے ہیں آج
لو میں رہین زحمت خلوت نہیں رہا

کیا فائدہ ہے دعوئے عشق حسین سے
سر میں اگر وہ شوق شہادت نہیں رہا
ہنسی آتی ہے
ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر
گناھ کرتا ھے خود ، لعنت بھیجتا ھے شیطان پر
Politics is the best weapon
Politics is the best weapon
To play with mind of others
Ghamo Se Labrez Hote To Lekar Dhol Tashe Nikalte
Ghamo Se Labrez Hote To Lekar Dhol Tashe Nikalte
Shayad Tumhe Maloom Nahi Karbala Me Hua Kya Tha
Suno! Ik kaam krte hain
Suno! Ik kaam krte hain
Wafaen yad krte hain
Chal Insha Apne Gaaon Main
Chal Insha Apne Gaaon Main

Yahan Uljhey Uljhey Roop Buhat
Per Asli Kamm, Behroop Buhat

Is Pairr K Neechey Kya Rukna
Jahan Sa`Aey Kamm, Dhoop Buhat

Chal Insha Apne Gaaon Main
Bethein Ge Sukh Ki Chhaaon Main

Kyun Teri Aankh Sawaali Hai?
Yahan Har Ek Baat Niraali Hai

Is Dais Baseira Mat Karna
Yahan Muflis Hona Gaali Hai

Chal Insha Apne Gaaon Main

Jahan Suchey Rishtey Yaaron K
Jahan Vaadey Pakkey Pyaaron K

Jahan Sajda Kare Wafa Paaon Main
Chal Insha Apne Gaaon Main
ہمیں کیوں ایسا ایسا لگ رہا ہے
ہمیں کیوں ایسا ایسا لگ رہا ہے
کہ وہ ہم سے خفا خفا لگ رہا ہے
Shikwa
کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں

نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

جرأت آموز مری تاب سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم

اے خدا شکوۂ ارباب وفا بھی سن لے
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم
پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم

شرط انصاف ہے اے صاحب الطاف عمیم
بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم

ہم کو جمعیت خاطر یہ پریشانی تھی
ورنہ امت ترے محبوب کی دیوانی تھی

ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر
کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر

خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر

تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا
قوت بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھی
اہل چیں چین میں ایران میں ساسانی بھی

اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی
اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی

پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے
بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں

دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہمیں چھاؤں میں تلواروں کی

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے
سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے

قوم اپنی جو زرو و مال جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خبیر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے

توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دئیے کفار کے لشکر کس نے

کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدۂ ایراں کو
کس نے پھر زندہ کیا تذکرۂ یزداں کو

کون سی قوم فقط تیری طلب گار ہوئی
اور تیرے لیے زحمت کش پیکار ہوئی

کس کی شمشیر جہانگیر جہاں دار ہوئی
کس کی تکبیر سے دنیا تری بیدار ہوئی

کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے ہو اللہ احد کہتے تھے

آ گیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی ہوئی قوم حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

محفل کون و مکاں میں سحر و شام پھرے
مئے توحید کو لے کر صفت جام پھرے

کوہ میں دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے
نوع انساں کو غلامی سے چھڑایا ہم نے

تیرے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے
تیرے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے

پھر بھی ہم سے یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں
ہم وفادار نہیں تو بھی تو دل دار نہیں

امتیں اور بھی ہیں ان میں گنہ گار بھی ہیں
عجز والے بھی ہیں مست مئے پندار بھی ہیں

ان میں کاہل بھی ہیں غافل بھی ہیں ہشیار بھی ہیں
سیکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بے زار بھی ہیں

رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر

بت صنم خانوں میں کہتے ہیں مسلمان گئے
ہے خوشی ان کو کہ کعبے کے نگہبان گئے

منزل دہر سے اونٹوں کے حدی خوان گئے
اپنی بغلوں میں دبائے ہوئے قرآن گئے

خندہ زن کفر ہے احساس تجھے ہے کہ نہیں
اپنی توحید کا کچھ پاس تجھے ہے کہ نہیں

یہ شکایت نہیں ہیں ان کے خزانے معمور
نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور

قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حور و قصور
اور بیچارے مسلماں کو فقط وعدۂ حور

اب وہ الطاف نہیں ہم پہ عنایات نہیں
بات یہ کیا ہے کہ پہلی سی مدارات نہیں

کیوں مسلمانوں میں ہے دولت دنیا نایاب
تیری قدرت تو ہے وہ جس کی نہ حد ہے نہ حساب

تو جو چاہے تو اٹھے سینۂ صحرا سے حباب
رہرو دشت ہو سیلی زدۂ موج سراب

طعن اغیار ہے رسوائی ہے ناداری ہے
کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض خواری ہے

بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا
رہ گئی اپنے لیے ایک خیالی دنیا

ہم تو رخصت ہوئے اوروں نے سنبھالی دنیا
پھر نہ کہنا ہوئی توحید سے خالی دنیا

ہم تو جیتے ہیں کہ دنیا میں ترا نام رہے
کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے

تیری محفل بھی گئی چاہنے والے بھی گئے
شب کی آہیں بھی گئیں صبح کے نالے بھی گئے

دل تجھے دے بھی گئے اپنا صلہ لے بھی گئے
آ کے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے

آئے عشاق گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر

درد لیلیٰ بھی وہی قیس کا پہلو بھی وہی
نجد کے دشت و جبل میں رم آہو بھی وہی

عشق کا دل بھی وہی حسن کا جادو بھی وہی
امت احمد مرسل بھی وہی تو بھی وہی

پھر یہ آزردگی غیر سبب کیا معنی
اپنے شیداؤں پہ یہ چشم غضب کیا معنی

تجھ کو چھوڑا کہ رسول عربی کو چھوڑا
بت گری پیشہ کیا بت شکنی کو چھوڑا

عشق کو عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا
رسم سلمان و اویس قرنی کو چھوڑا

آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں
زندگی مثل بلال حبشی رکھتے ہیں

عشق کی خیر وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی
جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی

مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تو نے

آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تو نے

آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں تجھے یاد نہیں

وادی نجد میں وہ شور سلاسل نہ رہا
قیس دیوانۂ نظارۂ محمل نہ رہا

حوصلے وہ نہ رہے ہم نہ رہے دل نہ رہا
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونق محفل نہ رہا

اے خوشا آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوئے محفل ما باز آئی

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے
سنتے ہیں جام بکف نغمۂ کو کو بیٹھے

دور ہنگامۂ گلزار سے یکسو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ہو بیٹھے

اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے
برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے

قوم آوارہ عناں تاب ہے پھر سوئے حجاز
لے اڑا بلبل بے پر کو مذاق پرواز

مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز
تو ذرا چھیڑ تو دے تشنۂ مضراب ہے ساز

نغمے بیتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے
طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے

مشکلیں امت مرحوم کی آساں کر دے
مور بے مایہ کو ہمدوش سلیماں کر دے

جنس نایاب محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے

جوئے خوں می چکد از حسرت دیرینۂ ما
می تپد نالہ بہ نشتر کدۂ سینۂ ما

بوئے گل لے گئی بیرون چمن راز چمن
کیا قیامت ہے کہ خود پھول ہیں غماز چمن

عہد گل ختم ہوا ٹوٹ گیا ساز چمن
اڑ گئے ڈالیوں سے زمزمہ پرداز چمن

ایک بلبل ہے کہ ہے محو ترنم اب تک
اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک

قمریاں شاخ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں

وہ پرانی روشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہن برگ سے عریاں بھی ہوئیں

قید موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی

لطف مرنے میں ہے باقی نہ مزہ جینے میں
کچھ مزہ ہے تو یہی خون جگر پینے میں

کتنے بیتاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں

اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں وہ لالے ہی نہیں

چاک اس بلبل تنہا کی نوا سے دل ہوں
جاگنے والے اسی بانگ درا سے دل ہوں

یعنی پھر زندہ نئے عہد وفا سے دل ہوں
پھر اسی بادۂ دیرینہ کے پیاسے دل ہوں

عجمی خم ہے تو کیا مے تو حجازی ہے مری
نغمہ ہندی ہے تو کیا لے تو حجازی ہے مری
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
Socha koi kaam karen
Socha koi kaam karen, Ek umer to us k naam karain
Sitaron main jo chaand raha, Jo jail main rah ker Aaazad raha
Zulfein Theen Ya Baadal Kalay
Zulfein Theen Ya Baadal Kalay
Par Gaye Mujh Ko Jaan Ke Lale

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.