Poetry in Urdu Shayari, Ghazals, Nazms

UrduWire.com presents thousands of best roman & Urdu poetries, ghazals, Urdu sher & nazms. Read the best shayari by Pakistani & Indian famous Urdu poets.

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے

کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر
دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے

ہم جہاں چائے پینے جاتے تھے
کیا وہاں اب بھی آیا کرتے تھے

کون ہے اب کہ جس کے چہرے پر
اپنی پلکوں کا سایہ کرتے تھے

کیوں مرے دل میں رکھ نہیں دیتے
کس لیے غم اٹھایا کرتے تھے

فون پر گیت جو سناتے تھے
اب وہ کس کو سنایا کرتے تھے

آخری میں اس کو لکھا ہے
تم مجھے یاد آیا کرتے تھے

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے
یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے
Kaun Kehta Hai Zayifi Me Dukhi Maa Baap Hain
Kaun Kehta Hai Zayifi Me Dukhi Maa Baap Hain
Mein To Kehta Hoon Her Ek Ghar Ki Khushi Maa Baap Hain
کیوں تمہیں لگتا ہے تمہیں ہم تُم سے چُرا لیں گے
کیوں تمہیں لگتا ہے تمہیں ہم تُم سے چُرا لیں گے
سُنو! تُم پہلے ہی ہم ہو، ہمیں ہم تُم ہی رہنے دو
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
پیڑ کو دیمک لگ جائے یا آدم زاد کو غم
دونوں ہی کو امجد ہم نے بچتے دیکھا کم

تاریکی کے ہاتھ پہ بیعت کرنے والوں کا
سُورج کی بس ایک کِرن سے گھُٹ جاتا ہے دَم

رنگوں کو کلیوں میں جینا کون سکھاتا ہے!
شبنم کیسے رُکنا سیکھی! تِتلی کیسے رَم!

آنکھوں میں یہ پَلنے والے خواب نہ بجھنے پائیں
دل کے چاند چراغ کی دیکھو‘ لَو نہ ہو مدّھم

ہنس پڑتا ہے بہت زیادہ غم میں بھی انساں
بہت خوشی سے بھی تو آنکھیں ہو جاتی ہیں نم
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم
اب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
قید حیات و بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے

جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترے
اے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے

اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے
اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے

روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے
عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے

دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
غالب
عشق نے نکما بنا دیا غالب ورنہ
ہم بھی بھڑے کام کے آدمی تھے
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا
جب دہر کے غم سے اماں نہ ملی ہم لوگوں نے عشق ایجاد کیا کبھی شہر بتاں میں خراب پھرے کبھی دشت جنوں آباد کیا کبھی بستیاں بن کبھی کوہ و دمن رہا کتنے دنوں یہی جی کا چلن جہاں حسن ملا وہاں بیٹھ رہے جہاں پیار ملا وہاں صاد کیا شب ماہ میں جب بھی یہ درد اٹھا کبھی بیت کہے لکھی چاند نگر
کبھی کوہ سے جا سر پھوڑ مرے کبھی قیس کو جا استاد کیا

یہی عشق بالآخر روگ بنا کہ ہے چاہ کے ساتھ بجوگ بنا
جسے بننا تھا عیش وہ سوگ بنا بڑا من کے نگر میں فساد کیا

اب قربت و صحبت یار کہاں لب و عارض و زلف و کنار کہاں
اب اپنا بھی میرؔ سا عالم ہے ٹک دیکھ لیا جی شاد کیا
محبت کی بحث
محبت کی بحث میں کوئی ہم سے نہ اُلجھے
ہم نے اَس میدان میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے
زندگی اپنی جب
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
Jahan Na Apne Azizon Ki Deed Hoti Hai
Jahan Na Apne Azizon Ki Deed Hoti Hai
zamin-e-hijr pe bhi koi Eid hoti hai
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
جب بھی آنکھوں میں ترے وصل کا لمحہ چمکا
چشم بے آب کی دہلیز پہ دریا چمکا

فصل گل آئی کھلے باغ میں خوشبو کے علم
دل کے ساحل پہ ترے نام کا تارا چمکا

عکس بے نقش ہوئے آئنے دھندلانے لگے
درد کا چاند سر بام تمنا چمکا

رنگ آزاد ہوئے گل کی گرہ کھلتے ہی
ایک لمحے میں عجب باغ کا چہرا چمکا

پیرہن میں بھی ترا حسن نہ تھا حشر سے کم
جب کھلے بند قبا اور ہی نقشہ چمکا

دل کی دیوار پہ اڑتے رہے ملبوس کے رنگ
دیر تک ان میں تری یاد کا سایا چمکا

روح کی آنکھ چکا چوند ہوئی جاتی ہے
کس کی آہٹ کا مرے کان میں نغمہ چمکا

لہریں اٹھ اٹھ کے مگر اس کا بدن چومتی تھیں
وہ جو پانی میں گیا خوب ہی دریا چمکا

ہجر پنپا نہ ترا وصل ہمیں راس آیا
کسی میدان میں تارا نہ ہمارا چمکا

جیسے بارش سے دھلے صحن گلستاں امجدؔ
آنکھ جب خشک ہوئی اور وہ چہرا چمکا
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

چمک رہا ہے افق تک غبار تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے

ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے

غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآل سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے

فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے

کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
ہنسی آتی ہے
ہنسی آتی ہے مجھے حسرت انسان پر
گناھ کرتا ھے خود ، لعنت بھیجتا ھے شیطان پر
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Ik Mele Mai Pohncha Hmakta Hoa
Ji Machlata Tha Ik Ik Shay Par Mgar
Jeeb Khai Thi Kuch Mol Le Na Saka
Lot Aya Liye Hasratain Sainkron
Aik Chota Sa Larka Tha Main Jin Dino
Khair Mehromaio Ke Wo Din Tu Gaye
Aaj Mela Lga Hai Usi Shan Se
Aaj Chahon Tu Ik Ik Dukan Mol Lon
Na Rasai Ka Ab Ji Mai Dharka Kahan
Par Wo Chota Sa, Alhar Sa Larka Kahan
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں

یوں مہ و انجم کی وادی میں اڑے پھرتے ہیں وہ
خاک کے ذروں پہ جیسے پاؤں دھرنا ہی نہیں

ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انہی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں

کیا علاج اس کا اگر ہو مدعا ان کا یہی
اہتمام رنگ و بو گلشن میں کرنا ہی نہیں

ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں

دل بھی ان کے ہیں سیہ خوراک زنداں کی طرح
ان سے اپنا غم بیاں اب ہم کو کرنا ہی نہیں

انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں

Urdu Poetry, Shayari & Ghazal

Urdu Shayari is a cherished tradition that has been passed down through generations, celebrated for its elegance and emotional depth. Urdu, with its lyrical quality and vocabulary drawn from Persian, Arabic, and Turkish, is considered one of the most expressive languages in the world.