تبدیلی سرکار کی سرکاری محکموں میں کر پشن مکاﺅ مہم کرپٹ سرکاری افسران وملازمین کے لالچ کے سمند رمیں ڈوب گئی

روزنامہ خبریں  |  Aug 06, 2020

لاہور(ویب ڈیسک )تبدیلی سرکار کی سرکاری محکموں میں کر پشن مکاﺅ مہم کرپٹ سرکاری افسران وملازمین کے لالچ کے سمند رمیں ڈوب گئی ،سپریم کورٹ کے واضع احکامات کے باوجود 72سال عمر کی حد کو عبور کرنے والے ریٹائرڈ سر کار ی ملازمین اپنے بقایا جات کے حصول کے لیے اپنے جائز حق سے 30فیصد تک رشوت دینے پر مجبور ،ایم سی ایل کے چیف کارپوریشن آفیسر سمیت فنانس ،اکاﺅنٹس اور آڈٹ برانچ میں عرصہ دراز سے تعینات دولت کے پجاریوں نے اپنے ہی محکموں کے عمر رسید ہ پنشنرز کو تگنی کا ناچ نچوا دیا مال لگاﺅ بقایا جات لو وگرنہ مہینوں دفتر کے چکر لگاتے رہو بزرگ پنشنرز کا حکام بالا سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ،تفصیلا ت کے مطابق 60 سال کی عمر تک عوام کی خدمت کرنے والے سرکاری ملازمین ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی اپنے جائز واجبات کے حصول کے لیے رشوت دینے پر مجبور ہوگئے ،اکاﺅنٹس اور آڈ ٹ برانچ کے افسران وملازمین کرپٹ چیف کارپویشن آفیسرسید علی عباس بخاری کے زیر سایہ اپنے ہی ریٹائرڈ ساتھی ورکروں کو لوٹنے میں مصروف ہے ، میٹروپولیٹن آفیسر فنانس یو سف سندھوبھی اوپرکی کمائی کے چکر میںبزرگ پینشنرز کی خواری دیکھنے سے قاصرہے ،عدالت عظمی کے نوٹیفکیشن کے باوجود ریٹائرڈ ملازمین کو بقایاجات کی جلد حصولی کے لیے اپنی ہی عمربھر کی کمائی سے حصہ دینے پر مجبور ہے ۔زرائع سے حاصل شد ہ معلومات کے مطابق سپریم کورٹ کے واضح ہدایات کے مطابق ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کو 72سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد پنشنز کی رقم ڈبل اد ا کی جائے گی جبکہ اس سے زائد عمر تک پہنچنے والے پنشنرز کو بقایا جات بھی اداکیے جائے گے مگر معتلقہ برانچ کے افسران وعملہ کی جانب سے بزرگی کی عمر کو پہنچنے والے ساتھی ملازمین کو بھی نہیں بخشا ءجارہا ہے اور انسانیت کی تمام حدیں عبور کرتے ہوئے ان سے بھی اپنے بقایا جات جلد حاصل کرنے کے لیے حصہ وصول کیاجاتاہے اس حوالے سے زرائع کا کہنا ہے کہ 72سال سے زائد عمرکے بزرگ پنشنرز سے بقایا جات کی ادائیگی جلد حاصل کرنے کے لیے ان کی سرکاری خزانے میںجمع شدہ جائز رقم کا 30فیصد حصہ بطور نذرانہ ادا کرنا پڑتا ہے بصور ت دیگر ان کو اپنے ہی جائز حق کے حصول کے لیے کئی مہینوں تک چکر لگوائے جاتے ہے جس کے بعد وہ تھک ہار کر اپنی محنت کی کمائی سے حصہ دینے پر مجبور ہوجاتے ہے اور ان سے بڑھاپے کا سہارا بھی چھین لیاجا تا ہے زرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھی اکاﺅنٹس اور آڈٹ برانچ میں درجنو ں کیسیز گزشتہ کئی مہینوں سے الماریوں کی زینت بنے ہوئے ہیں جبکہ ان سے بعد میں آنے والے کیسیز نذرانہ وصول کرتے ہوئے ہنگامی بنیا دوں پر مکمل کردیے گئے ہے جو ریکارڈ کی چھان بین سے واضع ہوجائے گا اس حوالے سے بزرگ پنشنرز نے اپنی شناخت نہ ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، سیکرٹری بلدیا ت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی او رڈی سی /ایڈمنسٹریٹر لاہور ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے ان کے ساتھ ہونے والی ذیادتی کا سختی سے نوٹس لیے اور ان کی عمر رسیدہ کا خیال رکھتے ہوئے بقا یا جات کے حصول کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں ۔

 

لاہور(نامہ نگار)خبر کے حوالے سے موقف جاننے کے لیے چیف کارپوریشن آفیسر سید علی عباس بخاری سے معتدد بار رابطہ کرنے کی کوشیش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہ ہوسکا

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More