امریکہ کے نصف مدتی انتخابات 2020: ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کمالہ ہیرس کو نائب صدر کا امیدوار چن لیا

بی بی سی اردو  |  Aug 11, 2020

کاملا
Getty Images

امریکہ میں رواں برس نومبر میں ہونے والے نصف مدتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ جماعت کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے نائب صدارتی امیدوار کے لیے سینیٹر کمالہ ہیرس کو چنا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی سیاہ فام خاتون کو اس عہدے کے لیے چنا گیا ہے۔

کمالہ اس سے قبل ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں جو بائیڈن کے مخالف تھیں۔ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کی والدہ انڈیا جبکہ والد جمیکا سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں ایک عرصے تک صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں ایک مقبول امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

کمالہ ریاست کیلی فورنیا کی سابق اٹارنی جنرل بھی رہ چکی ہیں اور وہ نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کے نظام میں اصلاحات کی بھی حامی رہی ہیں۔

بائیڈن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین نومبر کو انتخابات میں آمنے سامنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی الیکشن 2020: ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں یا جو بائیڈن؟

جو بائیڈن نائب صدر کے لیے اپنا ساتھی امیدوار کسے چنیں گے؟

کیا جو بائیڈن ٹرمپ کو شکست دےکر اگلے صدر بن سکتے ہیں؟

دوسری جانب موجودہ نائب صدر مائیک ٹرمپ کے نائب صدر کے امیدوار ہوں گے۔

تاریخ اب تک صرف دو خواتین کو نائب صدر کے امیدوار کے لیے چنا گیا ہے۔ رپبلیکن جماعت کی جانب سے سارہ پالن کو سنہ 2008 میں چنا گیا تھا اور جیرالڈین فیریرو کو ڈیموکریٹس کی جانب سے سنہ 1984 میں۔ دونوں کی وائٹ ہاؤس تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔

اس سے پہلے کسی بھی سیاہ فام خاتون کو دونوں امریکی سیاسی جماعتوں کی جانب سے نائب صدر کے امیدوار کی حیثیت سے ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ اب تک امریکہ میں کوئی خاتون صدر بھی منتخب نہیں ہوئی۔

کاملا
Getty Images

بائیڈن اور ہیرس نے کیا کہا؟

بائیڈن نے ٹویٹ کیا کہ ان کے لیے یہ 'بڑے اعزاز' کی بات ہے کہ وہ کمالہ کو اپنا نائب چن رہے ہیں۔

انھوں نے کپا کہ کمالہ نہ صرف ایک 'نڈر جنگجو' ہیں بلکہ ملک کی 'بہترین سرکاری ملازم' بھی رہی ہیں۔

انھوں نے لکھا کہ انھوں نے کیلی فورنیا کی اٹارنی جنرل کی حیثیت سے ان کے آنجہانی بیٹے باؤ کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا کہ 'میں نے انھیں بڑے بینکوں کے خلاف کیس کرتے، نوکری پیشہ افراد کی ہمت بندھاتے اور خواتین اور بچوں کو تشدد سے بچاتے دیکھا ہے۔

'مجھے اس وقت بھی فخر تھا اور آج بھی فخر ہے کہ وہ اس مہم میں میری شراکت دار ہیں۔'

کاملا
Getty Images

کمالہ نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ بائیڈن 'امریکہ کی عوام کو متحد کر سکتے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی پوری زندگی ہمارے لیے لڑتے گزاری ہے۔ بطور صدر وہ ایک ایسا امریکہ بنائیں گے جو ہمارے نظریات کی عکاسی کرے گا۔'

'میرے لیے جماعت کی نائب صدر کی امیدوار کے لیے نامزدگی اعزاز کی بات ہے اور میں انھیں (بائیڈن کو) کمانڈر ان چیف بنانے کے لیے کوئی کمی نہیں چھوڑوں گی۔'

بائیڈن کی صدارتی مہم کے منتظمین کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ یہ دونوں ولمنگٹن، ڈیلاویئر میں بدھ کے روز خطاب کریں گے اور 'ساتھ مل کر عوام کی روح کی بحالی اور نوکری پیشہ خاندانوں کے لیے جدوجہد کریں گے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔'

بائیڈن نے رواں برس مارچ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک خاتون کو نائب صدر کا ٹکٹ دیں گے۔ ان سے پولیس کی جانب سے افریقی امریکی برادری کے خلاف مظالم کے بعد ہونے والے مظاہروں کےدوران ایک سیاہ فام خاتون کو چننے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سیاہ فام امریکیوں کو عام طور پر ڈیموکریٹس کا حامی سمجھا جاتا ہے۔

کمالہ ہیرس کون ہیں؟

55 برس کی کاملا ہیرس نے گذشتہ برس دسمبر میں صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔ اس دوڑ کے دوران ان کے بائیڈن کے ساتھ مسلسل اختلافات بھی ہوتے رہے جن میں سے سب نمایاں وہ تنقید تھی جو انھوں نے بائیڈن کے اس بیان پر کی تھی جس میں انھوں نے نسلی امتیاز کی حمایت کرنے والے سابقہ سینیٹرز کے ساتھ اپنے رشتے کو 'مہذب' قرار دیا تھا۔

کمالہ ہیرس ریاست کیلی فورنیا کے شہر اوکلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ انڈیا میں جبکہ ان کے والد جمیکا میں پیدا ہوئے تھے۔

انھوں نے ہوورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جو تاریخی طور سیاہ فام کالجز اور یونیورسٹیز میں سے ایک ہے۔ انھوں نے وہاں گزرے وقت کو انتہائی مفید اور تعمیری قرار دیا ہے۔

کمالہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پہچان کے حوالے سے مطمئن ہیں اور خود ایک عام 'امریکی' سمجھتی ہیں۔

سنہ 2019 میں انھوں نے واشنگٹن پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں میں ان کے رنگ اور پس منظر کی وجہ سے تنقید نہیں کرنی چاہیے۔

'میرا ماننا ہے کہ میں جو ہوں وہ ہوں۔ اور میں اس پر مطمئن ہوں۔ شاید آپ کو اس حوالے سے سوچ بچار کرنی پڑے لیکن میں مطمئن ہوں۔'

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More